پتہ نہیں، اسے کیا کہیں گے، استقامت یا پھر وفاداری؟ وہ کیا ہے کہ خبروں میں آ رہا ہے اور بڑی شدت سے آ رہا ہے کہ اب کے سرما میں بجلی کا حال بے حال ہونے والا ہے اور…….اور اس کی شروعات حالیہ ایام میں جاری کٹوتی کے شیڈول کے ساتھ ہوئی ہے۔نہیں صاحب، اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ غیر متوقع بھی نہیں ہے۔ نئی بات، غیر متوقع بات تو یہ ہوتی کہ کشمیر اور کشمیریوں کو سرما کیا اور گرما کیا، بغیر خلل، بغیر کٹوتی کے بجلی سپلائی کی جاتی۔ لیکن صاحب، ایسی ہماری قسمت کہاں!آپ لاکھ کوششیں کیجیے، جہلم اور چناب کے کناروں پر ہزاروں کیا، لاکھوں میگاواٹ کے پن بجلی پروجیکٹ بنائیے ہی نہیں بلکہ انہیں مکمل کرکے بجلی کی پیداواری صلاحیت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میگاواٹ بڑھائیے……. لیکن ہم حلفاً یہ بیان کرنے کو تیار ہیں کہ پھر بھی بجلی کی کٹوتی کا شیڈول ویسا ہی جاری ہوگا جیسا کہ حالیہ دنوں میں ہوا۔ پھر بھی غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی کا سامنا ہمیں اور آپ کو کرنا پڑے گا، جیسا کہ ہم نے امسال گرما میں بھی کیا اور اب سرما میں بھی کرنے جا رہے ہیں…….اور ہم اسے ہمارے خلاف کسی کی سازش قرار نہیں دے رہے ہیں، این ایچ پی سی کی بھی نہیں، جو ہمارے پن بجلی پروجیکٹوں کی مالک بنی ہوئی ہے۔ ہم اسے بھی اس کے لیے ذمہ دار نہیں تصور کرتے ہیں، اور اس لیے نہیں تصور کرتے ہیں کیونکہ بات کچھ اور ہے اور بات استقامت اور وفاداری کی ہے۔سرما ہو یا گرما، تاریکیوں نے ہم سے وفاداری کا عہد لیا ہے اور اس عہد پر بڑی استقامت کے ساتھ قائم و دائم رہنے کا عزم بھی کیا ہے۔ دنیا ادھر کی اُدھر ہو جائے، یہ چاند پر بھی شہر آباد کرے اور وہاں کے مکینوں کو دن رات اور رات دن بغیر کسی خلل کے بجلی بھی سپلائی کرے، لیکن……. لیکن تاریکیاں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑیں گی……. بالکل بھی نہیں چھوڑیں گی۔امسال ہم نے انہیں ڈگمگاتے ہوئے دیکھا۔ ہمیں لگا کہ شاید اس سال یہ اپنا عہد نبھانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گی، لیکن دیکھ لیجیے کہ موسمِ سرما کی آمد سے پہلے ہی انہوں نے شہر و گام میں ایسی انٹری ماری ہے کہ ہمیں ان کی وفاداری اور استقامت پر فخر ہو رہا ہے……. آپ کو بھی۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔



