غزہ، 19 اکتوبر (یو این آئی) عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے فنڈز کی قلت کے باعث غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں بڑی کٹوتی کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ لاکھ افراد اہم امداد سے محروم ہوجائیں گے۔ جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے کی بڑی آبادی پہلے ہی مناسب خوراک کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 2026 میں فلسطین کے لیے اس کی کارروائیوں کو گزشتہ برسوں کے مقابلے نصف سے بھی کم فنڈز ملے ہیں۔ ادارے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آئندہ چھ ماہ تک اہم امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر مزید 45 کروڑ ڈالر کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق غزہ میں ماہانہ امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 16 لاکھ سے گھٹا کر 11 لاکھ کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ فی خاندان خوراک کے پیکٹوں کی تعداد دو سے کم کرکے ایک کردی جائے گی، جبکہ آٹے کے تھیلوں کا وزن بھی کم ہوگا۔
ادارہ روزانہ فراہم کیے جانے والے تیار کھانوں کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ سے گھٹا کر ڈیڑھ لاکھ کردے گا۔ نام نہاد یلو لائن کے قریب سمیت ان علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو، جہاں پہنچنا دشوار ہے اور جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول کی حد بندی کے قریب واقع ہیں، روزانہ کے بجائے ایک دن چھوڑ کر تیار کھانا فراہم کیا جائے گا۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ نے تعلیم، صحت اور معیشت کے نظام کو تباہ کردیا ہے۔ حماس کی قیادت میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران خوراک، پانی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کا حصول روزمرہ کی جدوجہد بن گیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 74,245 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ میں 80 فیصد سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں اور تازہ یا پروٹین سے بھرپور خوراک دستیاب ہونے کے باوجود اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ صرف ہر پانچ میں سے ایک بچہ متنوع اور متوازن غذا حاصل کرپاتا ہے، جبکہ صحت کی خدمات تک رسائی بھی محدود ہے۔
اندازہ ہے کہ غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد، یعنی مجموعی آبادی کا 67 فیصد حصہ، خوراک کی شدید قلت کے ایسے مرحلے سے دوچار ہے جو بحرانی سطح یا اس سے بھی بدتر ہے۔ 2025 کے اختتام پر یہ تعداد 16 لاکھ، یعنی آبادی کا 77 فیصد تھی۔
ڈبلیو ایف پی نے کہا کہ صورت حال میں بہتری آئی ہے، لیکن یہ پیش رفت ”معمولی اور نازک” ہے۔
فنڈز کی کمی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جہاں ستمبر میں امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے کم کرکے دو لاکھ سے گھٹا کر دو لاکھ کردی گئی۔






