(ایجنسیاں )
سرینگر؍۲۰؍اکتوبر
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندوارہ کے رکن اسمبلی سجاد لون نے منگل کو جموں و کشمیر میں اسمارٹ میٹرنگ مہم کے حوالے سے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کیبل پالیسی کو عوام، بالخصوص معاشرے کے غریب طبقوں کے لیے ایک ’’حیران کن تحفہ‘‘ قرار دیا۔
سجاد لون نے کہا کہ اسمارٹ میٹر لگانے کا عمل جاری ہے اور متعلقہ کمپنی ہر گھر کو زیادہ سے زیادہ چار میٹر کیبل فراہم کرتی ہے، جس میں دو میٹر بجلی کی آمد اور دو میٹر بجلی کی ترسیل کے لیے ہوتے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’’چار میٹر سے زیادہ کیبل کی قیمت متعلقہ گھرانے کو ادا کرنی ہوگی۔ بصورتِ دیگر نہ تو گھر کو بجلی کا کنکشن ملے گا اور نہ ہی اسے بجلی کے نظام سے منسلک رکھا جائے گا۔‘‘
اس پالیسی کے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ بجلی کے کھمبے سے گھر جتنا دور ہوگا، اتنی ہی زیادہ کیبل درکار ہوگی۔ ان کے مطابق غریب گھرانوں کو اسمارٹ میٹر نصب کروانے کے لیے۴۰۰۰سے۵۰۰۰ روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
سیاسی پہلو پر بات کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ حکومت نے۲۰۰یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کرکے ووٹوں کی صورت میں بڑا فائدہ حاصل کیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’دو سال گزر چکے ہیں، لیکن ایک بھی یونٹ مفت نہیں دیا گیا۔‘‘
سجاد لون نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اسمارٹ میٹرنگ کا مذاق اڑاتے اور اس پر طنز کرتے تھے۔ تاہم، ان کے بقول، اب انہی لوگوں کو اسمارٹ میٹر نصب کروانے کے لیے رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے جنہوں نے قطاروں میں کھڑے ہوکر وزیر اعلیٰ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
سجاد لون نے کہا، ’’یہ واقعی ایک بڑا مذاق ہے، اور ایک بار پھر اس مذاق کا نشانہ وہی لوگ بنے ہیں جنہوں نے وزیر اعلیٰ صاحب کو ووٹ دیا تھا۔‘‘ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔










