سرینگر؍۲۰؍اکتوبر
لداخ کے لیہہ میں قائم ہونے والا پہلا میڈیکل کالج تعلیمی سال۲۰۲۷۔۲۸سے فعال ہونے والا ہے۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے بتایا کہ مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے اس سلسلے میں منظوری دے دی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزارت نے تدریسی عملے اور معاون عملے کی بھرتی شروع کرنے سے قبل بنیادی ڈھانچے کی۸۰ فیصد تکمیل کی شرط میں ایک مرتبہ کے لیے رعایت دی ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کی درخواست پر غور کرتے ہوئے اس رعایت کو منظوری دی۔ اس فیصلے سے انتظامیہ کو۱۰۳منظور شدہ مستقل اسامیوں پر بھرتی کی ابتدائی کارروائی شروع کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ کالج کے لیے مخصوص تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جاری رہے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہ منظوری لداخ کے عوام کی ایک دیرینہ خواہش کو پورا کرتی ہے۔‘‘
حکام کے مطابق، عبوری انتظام کے تحت دو نو تعمیر شدہ عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں تدریسی بلاک اور طلبہ کے ہاسٹل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ موجودہ۲۰۰ بستروں پر مشتمل ایس این ایم اسپتال، جہاں تقریباً۶۰تجربہ کار ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں، ایم بی بی ایس کے پہلے بیچ کے طلبہ کو درکار طبی تربیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حکام نے کہا، ’’عبوری سہولیات کو محکمہ اخراجات کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کے مطابق عارضی طور پر استعمال کیا جائے گا، جب تک کہ کالج کے لیے مخصوص بنیادی ڈھانچہ مکمل نہیں ہوجاتا۔‘‘
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ میڈیکل کالج کے قیام سے مقامی نوجوانوں کو اپنے گھر کے قریب طبی تعلیم حاصل کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے اور طویل مدت میں خطے کے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ میڈیکل طلبہ کے پہلے بیچ کے استقبال کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں۔
مجوزہ میڈیکل کالج کو لداخ میں طبی تعلیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک خطے کے طلبہ کو ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عموماً لداخ سے باہر جانا پڑتا تھا۔
مقررہ بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کی حد پوری ہونے سے پہلے ابتدائی بھرتی کی اجازت دینے کے فیصلے سے توقع ہے کہ تعلیمی سال۲۰۲۷۔۲۸سے قبل ادارے کو فعال بنانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔
انتظامیہ کی جانب سے تعمیراتی کام جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پہلے بیچ کے طلبہ کے داخلے سے قبل تدریسی اور عملے سے متعلق ضروری انتظامات مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










