سرینگر؍۱۹اکتوبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے جموں و کشمیر کے فنکاروں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کی معاونت کے لیے پرساد بھارتی کے جموں و کشمیر مراکز کو مخصوص فنڈز فراہم کرنے اور وزارتِ ثقافت کے تحت خصوصی اسکیمیں شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
امیت شاہ کے نام رواں ماہ کے اوائل میں لکھے گئے ایک خط میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ فنکار، موسیقار، ادیب، تھیٹر سے وابستہ افراد اور فلم ساز ہماری تہذیبی وراثت کے محافظ اور جموں و کشمیر کے اہم ثقافتی سفیر ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اپنے فن کے ذریعے وہ ہماری بھرپور تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں، قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں اور جموں و کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس اہم کردار کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں ادارہ جاتی سطح پر مؤثر تعاون اور مسلسل سرپرستی کی ضرورت ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کی فنکار برادری کے حالات بہتر بنانے کے لیے امیت شاہ کی مداخلت طلب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے سرکاری نشریاتی اداروں کے لیے مخصوص فنڈز مختص کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دوردرشن اور آکاشوانی کے تمام مراکز، بالخصوص ڈی ڈی کشمیر، پر مقامی مواد کی تیاری کے لیے مناسب اور مختص بجٹ فراہم کیا جانا چاہیے۔
موصوفہ نے مرکزی ثقافتی اداروں، بشمول وزارتِ ثقافت اور اس سے وابستہ دیگر اداروں، کے ذریعے جموں و کشمیر کے تخلیقی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے خصوصی اقدامات اور مالی معاونت کی مخصوص اسکیمیں شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا، ’’اس سے ہمارے فنکاروں کو مسلسل تخلیقی سرگرمیاں انجام دینے، اپنے فن کا مظاہرہ کرنے اور باوقار روزگار حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے مزید کہا کہ ثقافتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کے روزگار کا تحفظ قومی ہم آہنگی، سماجی یکجہتی اور بھارت کی کثرت پسند تہذیبی وراثت کے تحفظ میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔
مرکزی حکومت نے ماضی میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینل کے آغاز اور اسے فعال بنانے کے لیے سینکڑوں کروڑ روپے فراہم کیے، جن میں ابتدائی مالی پیکیج تقریباً۴۵۰ سے۴۵۲کروڑ روپے کے تھے۔ تاہم، مقامی سطح پر آمدنی پیدا کرنے میں یہ ادارہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپے سے بھی کم رہی، جس کا بڑا حصہ ریاستی حکومت کے محکموں سے حاصل ہوتا تھا۔ نتیجتاً، یہ ادارہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی گرانٹس پر بڑی حد تک منحصر رہا۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










