نئی دہلی؍۱۷؍ اکتوبر
مرکزی حکومت نے لداخ کی خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے قانونی اصطلاحات، انتظامی ڈھانچے اور انتخابی ضوابط میں ترمیم کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد جموں و کشمیر تنظیمِ نو قانون۲۰۱۹ کے مطابق ان کونسلوں کے نظام کو ہم آہنگ کرنا ہے، جس کے تحت لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا تھا۔
لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے ترمیمی ضابطے کے تحت ہر کونسل میں منتخب نشستوں کی تعداد کا تعین لداخ انتظامیہ کرے گی۔ تاہم، نشستوں کی کم از کم تعداد سات اور زیادہ سے زیادہ۲۴مقرر کی گئی ہے۔
ضابطے کے مطابق، انتظامیہ خواتین اور ایسے طبقات کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے جنہیں مناسب نمائندگی حاصل نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ چار ارکان نامزد کر سکتی ہے۔ یہ نامزدگیاں آبادی کے چھٹے حصے کی مقررہ حد سے مشروط ہوں گی۔
لداخ کی نمائندگی کرنے والے موجودہ لوک سبھا رکن کو ہر ضلع میں قائم کونسل کا عہدے کی بنیاد پر رکن قرار دیا جائے گا۔
ترمیم کے مطابق، ہر کونسل کی مدت اس کے پہلے اجلاس کے لیے مقررہ تاریخ سے پانچ سال ہوگی، تاہم اسے اس سے پہلے بھی تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر انتخابات کرانا ناقابلِ عمل سمجھا جائے تو کونسل کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
ضابطے میں قانونی اصطلاحات کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاست اور گورنر کے حوالوں کی جگہ بالترتیب مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ اور منتظم کی اصطلاحات استعمال کی جائیں گی۔
انتخابی عمل سے متعلق ترمیم میں کہا گیا ہے کہ لداخ کے لیے قائم ریاستی انتخابی کمیشن کونسلوں کے انتخابات اور انتخابی فہرستوں کی نگرانی، رہنمائی اور کنٹرول کا اختیار رکھے گا۔
انتخابی تنازعات کے حل کے لیے نتائج کے اعلان کے۴۵دن کے اندر جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں براہِ راست انتخابی عرضی دائر کی جا سکے گی۔
ضابطے میں کونسلوں کے دائرۂ اختیار کے تحت آنے والے اضلاع کی وضاحت بھی کی گئی ہے، جن میں لیہہ، شام، نوبرا، چانگ تھانگ، کرگل، زنسکار اور دراس شامل ہیں۔ مستقبل میں قائم کیے جانے والے نئے اضلاع بھی اس تعریف میں شامل ہوں گے۔
ترمیم کے تحت ان کونسلوں کو ضلعی سطح پر پنچایتوں کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ انہیں جموں و کشمیر پنچایتی راج قانون۱۹۸۹کے تحت اختیارات استعمال کرنے اور فرائض انجام دینے کے لیے ضلعی سطح کی پنچایتیں تصور کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










