وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ایشیائی کھیل 2026 میں حصہ لینے والے ہندوستانی کھلاڑیوں کے دستے سے ملاقات کی۔ انہوں نے ایک ساتھ اتنے زیادہ تمغہ فاتح کھلاڑیوں کی موجودگی سے بننے والے شاندار ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کھلاڑی اس بات کی مثال ہیں کہ جب جذبہ کامیابی میں تبدیل ہوتا ہے تو تمغوں کے ساتھ چہروں پر ایک الگ چمک بھی نظر آتی ہے۔
140 کروڑ شہریوں کے لیے بے پناہ فخر کا لمحہ لانے والے کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑی کامیابی قومی پرچم کے احترام اور وقار کو بلند کرنا ہے۔ انہوں نے اس اجتماعی قومی کامیابی کے لیے کھلاڑیوں، ان کے کوچز، سپورٹ اسٹاف اور خاندانوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا، آپ کی کامیابی صرف آپ کی اپنی کامیابی نہیں ہے، بلکہ ملک کے کروڑوں شہریوں کی بھی کامیابی ہے۔
سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو ان کے یوم پیدائش پر یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کلام کی غیر معمولی زندگی اور دوراندیش سوچ آج بھی ملک کی رہنمائی کر رہی ہے اور ان کی زندگی و نظریات ہم سب کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔
ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی تاریخی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیموں کی دوہری طلائی کامیابی کو سراہا، جس میں خواتین کی ٹیم نے 44 سال کا طویل انتظار ختم کیا۔ انہوں نے دونوں کرکٹ ٹیموں کی مسلسل تمغہ جیتنے کی کامیابی اور کبڈی میں دو طلائی تمغے حاصل کرنے کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے تیراندازی میں پانچ طلائی تمغوں، شوٹنگ، باکسنگ اور کشتی میں شاندار کارکردگی، ایتھلیٹکس میں نئے ریکارڈ، 28 سال بعد ویٹ لفٹنگ میں تمغہ اور 1982 کے بعد میراتھن میں حاصل ہونے والی پہلی کامیابی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ایشیائی کھیل کئی لحاظ سے ہندوستان کے لیے یادگار رہے ہیں۔
ہندوستان کے مجموعی 85 تمغوں میں سے 38 تمغے، جن میں 11 طلائی تمغے شامل ہیں، جیتنے والی خواتین کھلاڑیوں کے غیر معمولی تعاون کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ تعداد محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک بااختیار ‘نئے ہندوستان’ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے مکسڈ مارشل آرٹس، سافٹ ٹینس اور سیلنگ (کشتی رانی) جیسے مقابلوں میں پہلی بار ایشیائی کھیلوں کے تمغے جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا، ”آج ہندوستان ان کھیلوں میں بھی تمغے جیت رہا ہے جن میں ایشیائی کھیلوں کی تاریخ میں پہلے کبھی کوئی تمغہ نہیں جیتا تھا۔”
کھلاڑیوں کو کھیل کے میدان میں مزید بلندیوں کو چھونے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے وزیراعظم نے ان کے ساتھ جوش و جذبے سے عہد لیا، جس پر تمام کھلاڑیوں نے یک زبان ہوکر کہا، ”ہم یہ کر دکھائیں گے!” انہوں نے کھلاڑیوں سے ہر میدان میں ترنگے کی شان برقرار رکھنے، کھیلوں میں ملک کی نئی شناخت بنانے اور ہر کھیل میں نئے چیمپئن تیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ”ہمارے نام مزید نئے ریکارڈ ہوں گے، ہم یہ کر دکھائیں گے!”
تقریب کے مقام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے وزیراعظم نے کھلاڑیوں کو یاد دلایا کہ یہ اسٹیڈیم عظیم کھلاڑی میجر دھیان چند کے نام پر ہے، جو رات رات بھر ہاکی کی مشق کیا کرتے تھے۔ میجر دھیان چند کی غیر متزلزل لگن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑے عزم کو پورا کرنے کے لیے برسوں تک مسلسل صبر اور سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ”ان کی یہ سخت محنت ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ عزم اور خواب ایک دن میں پورے نہیں ہوتے۔”
کھیلوں کے ایکو سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ 12 برسوں میں کی گئی محنت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس دور کو یاد کیا جب ہندوستان کو بہت کم تمغے ملتے تھے اور کئی کھیلوں کے بارے میں لوگوں کو معلومات تک نہیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے اولمپکس کے نصف سے زیادہ کھیلوں میں ہندوستان کی شرکت ہی نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ بغیر مقابلے میں اترے کوئی ملک تمغہ جیتنے کی امید کیسے کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا، ”اگر ہم مقابلہ ہی نہیں کریں گے تو تمغے کیسے لائیں گے؟”
قومی کھیل پالیسی میں آنے والی فیصلہ کن تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کھیلوں کے میدان میں تاریخی بے اعتنائی اور خود اعتمادی کی کمی کو جڑ سے ختم کرنے کے حکومت کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اور شاندار کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے عزم کیا تھا کہ اس مایوس کن سوچ کو دور کریں گے۔”
گزشتہ 10 سے 12 برسوں کی دوراندیش سوچ اور مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے شفاف اور جدید کھیلوں کے ایکو سسٹم کی تعمیر کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس میں ‘ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم’ (ٹاپس) اور ‘کھیلو انڈیا’ پروگرام کی توسیع شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ملک بھر میں کھیلوں کی فیڈریشنوں اور زمینی سطح کے پروگراموں کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے مالی وسائل فراہم کیے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا، ”کھیلو انڈیا کی توسیع اور کھیلوں کی فیڈریشنوں کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔”
وزیراعظم نے ایک ہزار سے زیادہ ‘کھیلو انڈیا مراکز’ کے ذریعے نچلی سطح پر بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہزاروں نئے اسٹیڈیم، ملٹی پرپز ہال، ایتھلیٹکس ٹریک، فٹ بال اور ہاکی کے میدان اور سوئمنگ پول بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایتھلیٹس کو براہ راست ملنے والی مالی مدد کا بھی ذکر کیا، جس میں ٹاپس اسکیم کے تحت ماہانہ 50 ہزار روپے کا ‘آؤٹ آف پاکٹ الاؤنس’ اور بین الاقوامی سطح پر کوچنگ کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر کسی کھیل میں کوچنگ کے لیے ملک سے باہر جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو حکومت اس کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے اور اس کے لیے مالی مدد بھی دی جا رہی ہے۔”
وزیراعظم نے ونٹر گیمز، رکن پارلیمنٹ کھیل مقابلوں اور نئی ‘کھیلو بھارت پالیسی’ کے ذریعے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مسابقتی تجربہ فراہم کرنے کی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کا نام روشن کرنے والے معذور ایتھلیٹس کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ جب کھلاڑیوں کو یہ معلوم ہو کہ پورا ملک ان کے سفر میں ان کے ساتھ کھڑا ہے تو وہ کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”آج ہر کھلاڑی کو یہ یقین ہے کہ ان کے پورے سفر میں ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔”
15 سے 17 سال کی عمر کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کم عمری سے کھیل شروع کرنے کا الگ فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘کھیلو انڈیا’ اور ‘ایمرجنگ کھیلو انڈیا’ کے ذریعے 5 سے 15 سال کے بچوں کی شناخت اور انہیں تربیت دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس، 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی اور 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے ہندوستان کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لال قلعے سے کی گئی اس اپیل کو یاد دلایا جس میں ملک بھر کے گاؤں گاؤں میں ٹیلنٹ ہنٹ کے ذریعے صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ”آنے والے وقت میں یہی کھلاڑی ہندوستان کے لیے تمغے لے کر آئیں گے۔”
ملک کے بڑے عزائم پر پختہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کھلاڑیوں کے ساتھ پورے جوش سے ”ہم یہ کر دکھائیں گے!” کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو بڑے عالمی کھیل مقابلوں کی میزبانی، دنیا کے سرفہرست کھیل ممالک کی صف میں شامل ہونے، عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور ہندوستان کو عالمی کھیل مرکز بنانے کے مشترکہ اہداف کے لیے ترغیب دی۔ وزیراعظم نے کہا، ”ہندوستان کے ہر کونے سے ایک چیمپئن نکلے گا، ہم یہ کر دکھائیں گے!”
ایشیائی کھیلوں کی کامیابی کو ہندوستانی نوجوانوں کی وسیع تر امنگوں سے جوڑتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ کس طرح نوجوان اختراع کاروں نے ہندوستان کو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خلاء، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، دفاع اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی نئی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی طرح چھوٹے شہروں اور دیہات کے نوجوان بھی اس کاروباری لہر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہیں گزشتہ ایک دہائی میں کی گئی منظم اصلاحات کا تعاون حاصل ہے، جس سے انہیں یقین ملتا ہے کہ پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے کہا، ”انہیں پورا یقین ہے کہ اپنے خوابوں کو آگے بڑھانے کے لیے ملک کی پوری طاقت ان کے ساتھ ہے۔”




