سرینگر؍۱۴؍اکتوبر
وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بدھ کو کہا کہ حکومت نجی اسکولوں کیخلاف ان شکایات کی جانچ کرے گی جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ والدین کو مخصوص کتاب فروشوں سے کتابیں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور طلبہ پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی ثابت ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔
نجی اسکولوں، والدین کی انجمنوں، غیر سرکاری تنظیموں اور محکمہ جاتی افسران کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ مقررہ کتابوں سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی کہ طلبہ اور والدین کو غیر ضروری مالی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیر تعلیم نے کہا، ’’کوئی بھی نجی تعلیمی ادارہ کسی والدین کو کسی مخصوص کتاب فروش سے کتابیں خریدنے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔ یہ فیصلہ والدین کا ہونا چاہیے۔ وہ جہاں سے چاہیں کتابیں خرید سکتے ہیں۔‘‘
قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت (این سی ای آر ٹی) کی مقرر کردہ کتابوں کے علاوہ دیگر کتابوں کے استعمال سے متعلق سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ اضافی کتابیں طلبہ کے علم میں اضافے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم انہیں مالی مفادات کے پیش نظر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
سکینہ نے کہا کہ نصاب کا تقریباً۸۵ فیصد حصہ یکساں ہے اور اگر طلبہ اضافی کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ ان کے لیے مفید ہو سکتی ہیں۔
موصوفہ نے کہا، ’’ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ پیسے کمانے کی خاطر کتابیں پڑھائی جائیں۔ جن بچوں کی دلچسپی نہ ہو، انہیں کتابیں نہیں دی جانی چاہئیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کتابوں کو طلبہ پر مسلط کرنے سے متعلق شکایات کی جانچ کی جائے گی جن سے تعلیمی اعتبار سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
وزیر تعلیم کے مطابق مجوزہ کمیٹی میں والدین کی انجمنوں، نجی اسکولوں کی انجمنوں، غیر سرکاری تنظیموں، دانشوروں اور سرکاری افسران کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی شکایات کا جائزہ لے گی اور الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں مناسب کارروائی کی سفارش کرے گی۔
سکینہ نے کہا کہ میٹنگ میں تعلیم کے معیار، درسی کتابوں اور نومبر میں ہونے والے امتحانات کے نتائج سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق محکمہ شکایات کے ازالے اور جموں و کشمیر میں تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
وزیر تعلیم نے کہا، ’’ہم سب چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے بچے ترقی کریں اور دنیا کے بہترین بچوں میں شمار ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ رابطے کو بہتر بنانے اور درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے اسکولوں کو مجازی نظام کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا ہے۔
اسکولوں کے اوقات کار سے متعلق سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت نے نیا شیڈول جاری کیا ہے، جس کے تحت میونسپل حدود میں واقع اسکول صبح۱۰ بجے جبکہ دیہی علاقوں کے اسکول صبح۱۰ بج کر۳۰ منٹ پر شروع ہوں گے۔
شیخ پورہ میں مبینہ طور پر طبی عملے کی عدم موجودگی کے باعث ایک خاتون کی موت سے متعلق شکایت کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت طبی غفلت سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتی ہے اور جن معاملات میں الزامات درست ثابت ہوئے ہیں، وہاں ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔
سکینہ نے کہا کہ مستقبل میں بھی اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ کسی ڈاکٹر کی غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان گئی ہے تو متعلقہ ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









