(ایجنسیاں )
نئی دہلی؍۱۴اکتوبر
وزیر خارجہ‘ ایس جئے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے حقیقی خطِ قبضہ (ایل اے سی) پر استحکام ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد پر کسی بھی قسم کی کشیدگی کے نتائج دونوں ممالک کے تعلقات پر مرتب ہوں گے۔
جئے شنکر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے کے معاملے کو بھی سرحد پر امن و سکون برقرار رکھنے سے جوڑا۔
وزیر خارجہ نے کہا، ’’ہم چین سے کہتے ہیں کہ اگر آپ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں اور دوطرفہ تعلقات کے دیگر شعبوں میں بھی پیش رفت چاہتے ہیں تو یہ ایک عام فہم بات ہے کہ سرحد پر استحکام ہونا چاہیے اور سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رہنا چاہیے۔‘‘
منگل کی شام بلومبرگ نیو اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ۲۰۲۴سے حقیقی خطِ قبضہ کے ساتھ صورت حال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے اور اسی تناسب سے دونوں ممالک کے تعلقات بھی معمول کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
مشرقی لداخ میں ساڑھے چار برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی فوجی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوئے تھے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں جانب سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اعتماد سازی کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ فوجی تعطل۲۰۲۴ کے اواخر میں ختم ہوا تھا۔
چین کے ساتھ سرحدی تنازعے کے حوالے سے اگر کسی ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو کیا بھارت ملک میں مزید چینی سرمایہ کاری کی اجازت دے گا؟ اس سوال کے جواب میں جے شنکر نے عمومی طور پر کہا کہ مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جئے شنکر نے کہا، ’’ہم اب ان امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم آگے کس سمت جاتے ہیں۔ تاہم، ہم اس بات پر اصرار نہیں کر رہے کہ کاروباری سرگرمیاں انجام دینے کے لیے سرحدی مسئلے کا حل ضروری ہے۔‘‘
وزیر خارجہ نے مزید کہا، ’’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ شرط نسبتاً آسان ہے۔ شرط یہ ہے کہ سرحد پر امن و سکون برقرار رکھا جائے۔ میں ابتدائی معاہدے کو سرحدی مسئلے کے حل کے علاوہ کسی اور معاملے سے نہیں جوڑوں گا۔ کاروبار اور منڈی تک رسائی سے متعلق ہماری کسی بھی پالیسی پر الگ سے غور کیا جائے گا۔‘‘
وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ اقتصادی معاملات پر بھارت کے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔
جئے شنکر نے کہا، ’’چین کے ساتھ ہمارے اقتصادی معاملات بھی بہت اہم ہیں۔ اگر آج دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن کو دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر چین کے حق میں جھکا ہوا ہے۔‘‘
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ تجارتی توازن انتہائی یک طرفہ ہے اور کئی ایسے شعبے ہیں جہاں بھارت نے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اسے چین میں منڈی تک مناسب رسائی حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان شعبوں میں وہاں کامیاب کاروباری سرگرمیاں انجام دی جا سکی ہیں۔
جئے شنکر نے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ چین میں ہمیں کاروبار کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے، حالانکہ ہم نے چین کو بھارت میں یکساں مواقع فراہم کیے ہیں۔‘‘
وزیر خارجہ نے۲۰۲۰میں وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کس طرح شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا۔انہوں نے کہا’’ ۱۹۷۵سے۲۰۲۰ تک، پورے۴۵ برسوں کے دوران اس سرحد پر کوئی خون نہیں بہا تھا۔ آخری مرتبہ۱۹۷۵ میں جانی نقصان ہوا تھا۔ اس عرصے کے دوران بھارت اور چین کے تعلقات میں پیش رفت ہوئی۔‘‘
جئے شنکر نے کہا، ’’اس کے بعد۲۰۲۰ میں، جب ہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران تھے، سرحد پر متعدد مسائل پیدا ہوئے اور بالآخر ایک جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں جانب کے کئی فوجی مارے گئے۔‘‘
وزیر خارجہ نے کہا، ’’ہمارے لیے یہ واقعہ۱۹۷۵ سے برقرار صورت حال سے ایک بہت بڑی انحراف کی علامت تھا۔ اگر سرحدی علاقوں میں امن و سکون متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات دوطرفہ تعلقات پر بھی مرتب ہوں گے۔‘‘
جئے شنکر نے کہا کہ اگلے چند برسوں کے دوران ان اثرات کو واضح طور پر محسوس کیا گیا، یہاں تک کہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون بحال ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔









