نئی دہلی، 13 اکتوبر (یو این آئی) چین نے ہندوستان کی جانب سے لداخ میں کچھ مقامات کے ناموں کو معیاری بنانے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ علاقے اس کی قلمرو میں آتے ہیں۔
چینی میڈیا گلوبل ٹائمز نے سوشل میڈیا پر منگل کے روز بتایا کہ چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے پریس کانفرنس کے دوران ہندوستان کے اس اقدام پر شدید احتجاج درج کرایا۔ محترمہ ماؤ نے کہا کہ چین نے "مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ” کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ وہاں کے جغرافیائی ڈھانچوں کے ہندوستانی معیار کے مطابق ناموں کے اعلان کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان 28 مقامات کے لیے ہندوستان کی جانب سے معیاری ناموں کا اعلان کرنے اور انہیں سرکاری نقشوں میں شامل کرنے سے متعلق ہندوستانی وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ‘غیر قانونی اور کالعدم ہے اور اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ ہندوستان-چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کے رہے ہیں۔ انہوں نے لداخ کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کردہ علاقہ قرار دیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے ایک اہم حکمتِ عملی اور سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کے مشورے سے وہاں کے 28 مقامات اور جغرافیائی ڈھانچوں کو ‘سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشے پر ان کے معیاری مقام اور ناموں کے ساتھ نشان زد کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے گزشتہ 2 اکتوبر کو یہ معلومات دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس قدم کا مقصد ان مقامات کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عام لوگوں میں ان کے بارے میں بیداری بڑھانا ہے۔
سروے آف انڈیا کے لداخ کے نقشے پر نشان زد 28 مقامات اور جغرافیائی ڈھانچوں میں پہاڑی چوٹیاں، پہاڑ، درے، زمینی علاقے، گلیشیئرز، وادیاں، جھیلیں، ندی اور آبی ذخائر شامل ہیں۔
نشان زد سائٹس میں آتیشا گری، برانگسا، چپچِنگل درہ، کنشک چوٹی، کرون پیر، کُکسل، مارٹنڈ گری، پرپِک گلیشیئر، اسکامری گلیشیئر، شچمِرک درہ، شکورگا وادی، زوراور چوٹی، دہرا کمپاس، درک کرپو، گوگرا، جولموری، کمارائن نقطہ، پانگ لونگ، رنچن زانگپو، شاکیہ شری گری، گرو رنپوچے، شمال لونگپا، یانگپا ندی، ہاٹ اسپرنگ، مارپا لوتساوا ری، ملاریپا کانگری، شیو ری اور مہیشور ری شامل ہیں۔
حکومت کا یہ اقدام سفارتی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ اسے مشرقی لداخ میں چین کے علاقائی دعووں اور علاقوں کے نام بدلنے کی کوششوں کے سخت جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








