گولف کی دنیا کی توجہ 40 لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم والی ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ کی جانب مرکوز ہونے کے ساتھ ہی دفاعی چیمپئن ٹومی فلیٹ ووڈ اور کیریئر گرینڈ سلیم مکمل کرنے والے روری میکلرائے سمیت بین الاقوامی گولف کے کئی بڑے نام دہلی گولف کلب (ڈی جی سی) کے تاریخی میدان میں اتریں گے۔
ڈی پی ورلڈ ٹور اور ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی کی مشترکہ منظوری سے ہونے والا ہندوستانی گولف کا اہم ترین مقابلہ اس بار مضبوط ہندوستانی چیلنج کا بھی گواہ بنے گا، جس کی قیادت کئی فارم میں موجود ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی اسٹارز کریں گے۔
‘ریس ٹو ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ (موجودہ ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی آرڈر آف میرٹ) کی درجہ بندی میں سرفہرست 24 کھلاڑیوں نے اس ہفتے ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ‘ریس ٹو ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ کو رواں سال پورے سیزن پر محیط مقابلے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جس میں مستقل مزاجی کا صلہ دیتے ہوئے انعامی رقم کے لحاظ سے سیزن کے 24 بہترین کھلاڑیوں کا تعین کیا گیا۔ انہیں اب ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ میں شرکت کا موقع ملا ہے، جو 2026 ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی سیزن کا اختتامی ٹورنامنٹ بھی ہے۔
2026 کے سیزن میں نمایاں رہنے والے کھلاڑیوں میں رینکنگ کے ٹاپ تین کھلاڑی سپتک تلوار، خلین جوشی اور ویر اہلوات شامل ہیں۔ سپتک تلوار نے سیزن کے آغاز میں انڈوراما وینچرز اوپن جیتا اور سال کے دوران سات دیگر ٹاپ 10 پوزیشنوں کے ساتھ متعدد مقابلوں میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یورپ میں ہوٹل پلانر ٹور میں بھی باقاعدگی سے حصہ لینے والے تلوار کو حالیہ ایشین گیمز میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔
ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی آرڈر آف میرٹ کے سرفہرست سپتک کی سیزن کی انعامی رقم 99,59,684 روپے ہے اور وہ دوسرے نمبر پر موجود خلین جوشی سے 22 لاکھ روپے سے زیادہ آگے ہیں۔ 27 سالہ تلوار کی نظریں اب ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی آرڈر آف میرٹ کے خطاب پر ہیں، جس کا فیصلہ ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ کے اختتام پر ہوگا۔ اس سال آرڈر آف میرٹ کا چیمپئن 2026-27 سیزن کے لیے ڈی پی ورلڈ ٹور پر کھیلنے کے مکمل حقوق حاصل کرے گا۔
آرڈر آف میرٹ کے سرفہرست دعویدار سپتک نے کہا، "آرڈر آف میرٹ کا لیڈر ہونے کے ناطے ذمہ داری کا احساس اور تھوڑا دباؤ ضرور ہے، لیکن میرے خیال میں یہ اعزاز کی بات بھی ہے۔ میں اس مقام پر پہنچنے پر پُرجوش ہوں۔ ڈی جی سی میرے لیے بہت خاص ہے۔ میں یہاں بی کورس پر کھیلتے ہوئے بڑا ہوا ہوں۔ یہ اہم ہے کہ میں خود سے آگے نہ بڑھوں۔ بس موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز رکھنی ہے اور اگر میں ان چیزوں پر توجہ دوں جن پر میرا اختیار ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میں اچھی پوزیشن میں رہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس ہفتے اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے میرے کھیل میں صلاحیت موجود ہے۔”
خلین جوشی نے اپنے گولف کیریئر کے بہترین سیزن میں چار خطابات جیتے ہیں، جس کی بدولت وہ ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی کی منی لسٹ میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کی شاندار فارم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں سال ان کی چار میں سے تین فتوحات وائر ٹو وائر رہی ہیں۔ 34 سالہ جوشی نے 2018 میں ڈی جی سی میں ایشین ٹور کے ایک مقابلے میں اپنا واحد بین الاقوامی خطاب جیتا تھا اور اب وہ ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ میں اچھی کارکردگی کی صورت میں آرڈر آف میرٹ کا خطاب جیتنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
77,32,225 روپے کی سیزن کی انعامی رقم رکھنے والے خلین نے کہا، "ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی کے ٹاپ 24 میں شامل ہم سب اس ہفتے اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے اور دکھائیں گے کہ ہم میں کتنی صلاحیت ہے۔ ڈی جی سی سے میری بہت اچھی یادیں وابستہ ہیں کیونکہ میں پہلے بھی یہاں جیت چکا ہوں۔ اس لیے میں ایک اور مثبت ہفتے کا منتظر ہوں۔ امید ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کی اپنی فارم کو برقرار رکھ سکوں گا اور خطاب کے لیے چیلنج پیش کروں گا۔ اس سیزن میں کورس پر میری ذہنی کیفیت کافی بہتر رہی ہے۔ اب میں ٹورنامنٹ میں اترتے وقت زیادہ پُرسکون اور پراعتماد رہتا ہوں اور اس سے میرے کھیل میں بڑا فرق آیا ہے۔”
ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی آرڈر آف میرٹ کے سابق چیمپئن ویر اہلوات 65,97,400 روپے کی سیزن کی انعامی رقم کے ساتھ اس وقت تیسرے نمبر پر ہیں۔ ویر اس ہفتے 2025 میں ڈی پی ورلڈ ٹور پر کھیلنے کے تجربے اور اس کے فوائد کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ حالیہ ایشین گیمز میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے ویر نے رواں سال ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی میں نو ٹاپ 10 پوزیشنیں حاصل کی ہیں، جو کسی بھی کھلاڑی کی سب سے زیادہ ہیں۔ وہ بھی آرڈر آف میرٹ کے خطاب کے دعویدار ہیں۔
30 سالہ ویر نے کہا، "یہ سب سے مضبوط میدان ہے جس کے خلاف ہم پورے سال کھیلتے ہیں اور ہم سب ہندوستانی کھلاڑی واقعی اس ہفتے کے منتظر ہیں۔ ہم اس کورس پر کافی کھیلتے ہیں، اس لیے اسے اچھی طرح جانتے ہیں اور ہندوستانی کھلاڑی اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ میں کئی بڑے مقابلوں میں حصہ لے چکا ہوں اور ایک سال تک ڈی پی ورلڈ ٹور پر بھی کھیل چکا ہوں۔ اس لیے مجھے معلوم ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے دیکھنے اور اس طرح کی تمام صورتحال کے درمیان کس طرح کھیلنا ہے۔ اس کورس پر آپ کو ایک مختلف انداز کا کھیل کھیلنا ہوتا ہے۔ ٹی، دوسرے شاٹس اور خاص طور پر گرین پر چپنگ میں بہت درست ہونا ضروری ہے۔ آپ کو بہت سمجھداری سے بھی کھیلنا ہوگا۔ آپ ہر وقت ڈرائیور استعمال نہیں کرسکتے۔ میں اس ہفتے ڈرائیور کو اپنے بیگ سے باہر نہیں رکھ رہا ہوں۔”
یوراج سندھو بھی اس مضبوط ہندوستانی چیلنج میں اہم نام ہوں گے۔ وہ موجودہ ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی آرڈر آف میرٹ چیمپئن ہیں اور ڈی جی سی میں پہلے بھی خطاب جیت چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کپل دیو انویٹیشنل ٹور چیمپئن شپ میں ٹاپ پانچ میں جگہ بنا کر انہوں نے اپنی اچھی فارم کا بھی مظاہرہ کیا۔
ہنی بیسویا، اکشے شرما، راشد خان اور اوم پرکاش چوہان کے لیے بھی سیزن شاندار رہا ہے۔ یہ کھلاڑی آرڈر آف میرٹ میں چوتھے سے ساتویں مقام پر ہیں اور سب نے ایک ایک خطاب جیتا ہے۔ ہنی اور راشد کو یہ اضافی فائدہ بھی حاصل ہے کہ وہ ڈی جی سی میں ہی کھیلتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ راشد نے اپنے دو بین الاقوامی خطابات میں سے ایک ڈی جی سی میں ہی جیتا تھا۔





