سرینگر؍۱۰؍اکتوبر
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے خلاف ضلع سطح پر احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی نے حکومت پر غریبوں اور سماج کے محروم طبقوں کے مسائل کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے بتایا کہ پارٹی کے ضلعی صدور اور ضلعی جنرل سیکریٹریوں کے اجلاس میں ان مسائل پر تبادلۂ خیال کے بعد انہیں عوام کے درمیان لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کا کردار حزب اختلاف کا ہے، لیکن ان کے بقول یہاں کی حکومت ایسے انداز میں کام کر رہی ہے کہ وہ عام لوگوں، بالخصوص غریب طبقے، سے بہت دور ہو گئی ہے۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے اسمبلی میں بھی یہ مسائل اٹھانے کی کوشش کی، تاہم حکومت کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
بی جے پہ لیڈر نے کہا، ’’ہم ان مسائل اور مشکلات سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے اور سڑکوں پر اتر کر حکومت کے خلاف جدوجہد کریں گے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے تاکہ حکومت کو اس کی ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یہ الزام عائد کیے جانے پر کہ جموں و کشمیر میں حد بندی کے عمل سے بی جے پی کو فائدہ پہنچا، سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ اس عمل سے سب سے زیادہ فائدہ نیشنل کانفرنس کو ہوا ہے۔
شرما نے کہا، ’’اگر عمر عبداللہ سمجھتے ہیں کہ بی جے پی یا الیکشن کمیشن نے اس عمل میں ہیرا پھیری کی ہے تو سب سے بڑی اخلاقی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں حکومت چھوڑ دینی چاہیے‘‘۔
دہلی میں الیکشن کمیشن اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری احتجاج کے بارے میں پوچھے جانے پر سنیل شرما نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
شرما نے دعویٰ کیا کہ یہ بھارت کو غیر مستحکم کرنے اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس میں شامل کرکے بدامنی پیدا کرنے کی ایک بڑی سازش ہے۔ ان کے بقول، بعض قوتیں نیپال اور بنگلہ دیش میں پیش آنے والی تبدیلیوں کی طرز پر بھارت میں بھی حکومت کی تبدیلی چاہتی ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے اپوزیشن پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عوام میں بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ایک آئینی ادارے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی شکست کا ذمہ دار انتخابی نظام کو ٹھہرانا درست نہیں ہے۔
شرما نے کہا، ’’جو جماعت گزشتہ۱۲ برسوں سے مسلسل انتخابات ہار رہی ہے، وہ اب یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ایک سال قبل عہدہ سنبھالنے والے چیف الیکشن کمشنر اس کی شکست کے ذمہ دار ہیں۔‘‘
انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں دوہری اندراجات، فوت شدہ افراد اور دیگر نااہل ووٹروں کے نام شامل نہیں ہونے چاہئیں۔
شرما نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے ایک شہری کی حیثیت سے میں ایس آئی آر کی حمایت کرتا ہوں۔ ہمیں یہاں کسی غیر قانونی ووٹر کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘ انہوں نے بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے بھارت میں ووٹ ڈالنے کے مبینہ واقعات کا بھی حوالہ دیا۔
بی جے پی لیڈر نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ۶ء۵ کروڑ ووٹر ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو چکے ہیں،۲ء۵ کروڑ ووٹر فوت ہو چکے ہیں، جبکہ ایک کروڑ ووٹروں کے پتے تلاش نہیں کیے جا سکے۔ ان کے مطابق، رہائش تبدیل کرنے والے یا فوت ہو جانے والے افراد کے نام متعلقہ انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جانے چاہئیں۔
شرما نے سوال کیا کہ کیا کسی ووٹر کا نام دو مقامات پر درج ہونا چاہیے؟ کیا فوت شدہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں میں برقرار رہنے چاہئیں؟ اور کیا ایسے ووٹروں کے نام بھی فہرستوں میں ہونے چاہئیں جن کے پتے تلاش نہیں کیے جا سکتے؟
یہ اعداد و شمار اور ووٹروں کے نام حذف کرنے سے متعلق دعوے سنیل شرما نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دفاع میں پیش کیے؛ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









