نئی دہلی، 8 اکتوبر (یواین آئی) ایشین گیمز 2026 میں مردوں کے ڈبل اسکلز مقابلے میں تاریخی کانسہ کا تمغہ جیتنے والے ستنام سنگھ کا ماننا ہے کہ اس کامیابی نے نہ صرف طویل انتظار ختم کیا ہے بلکہ ہندوستان میں روئنگ کے لیے نئی امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔
ستنام نے جمعرات کو سائی میڈیا سے کہا، جو راستے بند تھے، وہ اب کھل گئے ہیں۔ اب ہم امید کرسکتے ہیں کہ مستقبل میں اس مقابلے میں مزید تمغے جیتیں گے اور اس سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
1951 میں ایشین گیمز کے آغاز کے بعد سے ہندوستان نے روئنگ کے مردوں کے ڈبل اسکلز مقابلے میں کبھی کوئی تمغہ نہیں جیتا تھا۔ پنجاب کے ستنام نے سلمان خان کے ساتھ مل کر ہندوستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیتا اور ناگاراگاوا انٹرنیشنل ریگاٹا کورس پر 6:13.25 کا وقت درج کیا۔ یہ ایشین گیمز میں ان کا دوسرا تمغہ ہے۔ اس سے قبل ستنام نے ہانگژو ایشین گیمز میں کواڈروپل اسکلز مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
انہوں نے کہا، تجربہ بھی بہت اہم ہے۔ جب کوئی کھلاڑی نیا ہوتا ہے تو مقابلے میں فطری طور پر دباؤ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کھیلتے رہتے ہیں، تجربہ اور اعتماد بڑھتا ہے اور خوف کم ہونے لگتا ہے۔ ایک کھلاڑی کے لیے یہ بہت اہم ہے۔
ستنام کا کہنا ہے کہ ہندوستانی روئنگ کے سپورٹ سسٹم میں ہونے والی تبدیلیوں نے ہندوستانی روئرز کو دنیا کی سرفہرست ٹیموں کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک یورپ میں تربیت حاصل کرنے اور مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع ملنا ہے، جو ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹاپس) کی وجہ سے ممکن ہوا۔
26 سالہ ہندوستانی بحریہ کے جوان نے کہا،یہ پہلی بار تھا جب ہم نے یورپ میں کیمپ لگائے۔ ہمیں ایشین گیمز سے قبل دنیا کی کچھ سرفہرست ٹیموں کے خلاف مقابلہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ اس سے ہمیں بہترین کھلاڑیوں کے مقابلے میں اپنی سطح سمجھنے کا موقع ملا۔ پہلے ہم کافی پیچھے تھے، لیکن اب جب ہم یورپی ممالک کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں تو ان سے صرف تین چار سیکنڈ پیچھے رہتے ہیں۔ کوچ کی مسلسل حمایت مل رہی ہے، کھیل میں نئی تکنیک اور نئی ٹیکنالوجی آرہی ہے اور ہم مسلسل محنت کررہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہندوستانی روئنگ میں کافی ترقی ہورہی ہے۔
اب تمام توجہ لاس اینجلس 2028 اولمپکس پر مرکوز ہونے کے درمیان ستنام نے کہا کہ وہ اسی مسلسل ترقی کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، فی الحال ہم لاس اینجلس اولمپکس کو لے کر بہت پرامید ہیں۔ ہماری کوشش زیادہ سے زیادہ مقابلوں میں کوالیفائی کرنے کی ہوگی۔ اگر پہلے کی بات کریں تو ہندوستان اس سطح پر نہیں تھا، لیکن اب ہم یورپی ممالک کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں اور ان سے صرف تین چار سیکنڈ پیچھے رہتے ہیں۔ کوچ کی حمایت، نئی تکنیک اور ٹیکنالوجی کے استعمال اور ہماری مسلسل محنت کی وجہ سے ہم روئنگ میں کافی آگے بڑھے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ایشین گیمز میں طلائی تمغہ بھی جیت سکتے ہیں۔ ہم اس کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہیں گے۔ اولمپکس میں ہماری کوشش ہوگی کہ ہم کوالیفائی کریں اور فائنل تک پہنچیں۔”





