’یو ٹی کی شبیہ سے متعلق منفی تاثر ماضی کی تین دہائیوں کا ورثہ‘ سرمایہ کاری سے مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے‘
جموں؍۹؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کمپنیوں کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں عالمی صلاحیتی مراکز (گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز) قائم کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں منفی تاثر گزشتہ تین دہائیوں کے حالات کا نتیجہ ہے اور اسے موجودہ حقیقت کا عکاس نہیں سمجھنا چاہیے۔
عمر عبداللہ جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کی جانب سے جموں و کشمیر حکومت اور نیسکام کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ عالمی صلاحیتی مراکز سربراہی اجلاس۲۰۲۶ سے ورچوئل خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نیسکام نے علمی شراکت دار کی حیثیت سے تعاون کیا۔
ماضی کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اور انفوسس کے بانی این آر نارائن مورتی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا ذکر کیا۔
یہ ملاقات۲۰۰۲سے۲۰۰۵کے دوران سرینگر میں نیسکام کے زیر اہتمام ایک سرمایہ کاری تقریب کے موقع پر ہوئی تھی۔ عمر عبداللہ کے مطابق، اس وقت نارائن مورتی نے خطے میں امن اور استحکام کو سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرط قرار دیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے اپنی تقریر میں نارائن مورتی سے درخواست کی تھی کہ وہ جموں و کشمیر میں بھی انفوسس کا کوئی ادارہ قائم کریں۔ اس کے جواب میں نارائن مورتی نے کہا تھا کہ اگر انہیں چھ دن امن اور سکون کی ضمانت مل جائے تو وہ ساتویں دن سرمایہ کاری کے لیے آنے کو تیار ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’خوش قسمتی سے آج ہم امن کے ادوار کو دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں نہیں گنتے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اب ہم امن کے تسلسل کو برسوں کے پیمانے پر دیکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جانا چاہیے کہ فوری طور پر کتنے مراکز قائم ہوئے، بلکہ اصل کامیابی ایک پائیدار سرمایہ کاری کے سفر کے آغاز میں ہے۔
وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا کہ جموں و کشمیر کو اپنی شبیہ سے متعلق چیلنجوں کا سامنا ہے، تاہم ان کے مطابق یہ مسائل ماضی کے حالات سے جڑے ہوئے ہیں، نہ کہ موجودہ صورت حال سے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دے کر خطے کے بارے میں تاثر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر دوسرے علاقوں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے عالمی صلاحیتی مراکز کے شعبے میں اپنی نسبتاً تاخیر سے آمد کو بھی ایک فائدے میں تبدیل کر سکتا ہے۔
ہندوستان میں ریلوے خدمات کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نے ریلوے کے شعبے میں قدم رکھتے وقت وندے بھارت جیسی جدید ٹرینوں کے ذریعے سفر شروع کیا اور ترقی کے کئی ابتدائی مراحل سے آگے نکل گیا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’اس میدان میں دیر سے شامل ہونا مایوس کن ضرور ہے، لیکن یہ ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ ہم دوسروں کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے بہتر انداز میں استعمال کرنا ہے۔‘‘
عالمی صلاحیتی مراکز کے اجلاس کی کامیابی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس توقع کے ساتھ نہیں بیٹھے کہ اس پروگرام کے فوراً بعد جموں و کشمیر میں سو مراکز قائم ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق، اگر ابتدا میں ایک مرکز بھی قائم ہو جائے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی، کیونکہ ایک مرکز سے پانچ، پانچ سے دس اور پھر اس سے مزید سرمایہ کاری کی راہیں کھل سکتی ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر چاہتا ہے کہ سرمایہ کار خطے کے مشکل ماضی پر ہمدردی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کی اقتصادی صلاحیت، کاروباری مسابقت اور دستیاب مواقع کو دیکھتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ کریں۔
وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر فوری طور پر حیدرآباد، بنگلورو اور چنئی جیسے بڑے اطلاعاتی ٹیکنالوجی مراکز کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تاہم، ان کے مطابق، عالمی صلاحیتی مراکز کے قیام کے لیے جے پور، پونے اور موہالی جیسے دوسرے درجے اور تیسرے درجے کے شہروں کے ساتھ مسابقت کرتے ہوئے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بعض فطری فوائد حاصل ہیں، جن میں معروف تعلیمی اداروں کا وسیع نیٹ ورک اور مضبوط تعلیمی بنیاد رکھنے والے باصلاحیت نوجوان شامل ہیں۔
انہوں نے آئی آئی ٹی جموں، شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی، جموں یونیورسٹی، کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے باصلاحیت نوجوان تیار کر رہے ہیں، جن میں عالمی صلاحیتی مراکز کے شعبے میں کام کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ مناسب روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث ان میں سے بہت سے نوجوانوں کو ملازمت کی تلاش میں جموں و کشمیر سے باہر جانا پڑتا ہے اور وہ دیگر ریاستوں میں عالمی صلاحیتی مراکز سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں تو مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور خطے کے باصلاحیت انسانی وسائل کو یہیں برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









