نئی دہلی؍۹؍اکتوبر
دہلی میں جنتَر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے۲۵ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، میٹرو کے۵۷؍ اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے ہیں اور احتجاجی مقام کے چار کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئی ہیں۔
پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کو۱۰؍ اکتوبر کو احتجاج کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس کی وجوہات میں مختصر نوٹس پر درخواست دینا اور گزشتہ احتجاج کے دوران مبینہ خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد غیر مجاز اجتماعات کو روکنا اور امن و قانون برقرار رکھنا ہے۔
انٹرنیٹ خدمات۹؍ اکتوبر کی رات۱۰بجے سے۱۰؍ اکتوبر کی رات۱۰ بجے تک معطل رہیں گی، جبکہ دہلی کے باقی علاقوں میں خدمات معمول کے مطابق جاری رہنے کی توقع ہے۔ حفاظتی انتظامات میں مرکزی مسلح پولیس فورسز کی۱۲۰ سے زیادہ کمپنیاں بھی شامل ہوں گی۔
متاثرہ میٹرو اسٹیشنوں میں راجیو چوک، نئی دہلی، سینٹرل سیکریٹریٹ، کشمیری گیٹ، منڈی ہاؤس اور چاندنی چوک شامل ہیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، نئی دہلی اسٹیشن کے علاوہ دیگر متاثرہ اسٹیشنوں پر لائن تبدیل کرنے کی سہولت دستیاب رہنے کی توقع ہے۔
حکام نے۹؍اور۱۰؍ اکتوبر کو شراب کی دکانیں بند رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ شہر کی سرحدوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس ٹرمینلوں، ہوٹلوں اور دیگر حساس مقامات پر جانچ پڑتال تیز کردی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ہفتہ کی صبح۴ بجے سے دوپہر۲ بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں سے متعلق بعض ٹرینیں منسوخ کردی گئی ہیں۔
مجوزہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کیا جانا ہے۔ ان پر انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق ووٹر فہرستوں میں ردوبدل اور فارم۶ میں تبدیلیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات ہیں، جن کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
پولیس نے سوشل میڈیا کی نگرانی بھی تیز کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، احتجاج کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کی مبینہ کوششوں کے سلسلے میں۲۰۰ سے زیادہ مواد تخلیق کرنے والوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سفر شروع کرنے سے قبل سرکاری سفری ہدایات اور اعلانات ضرور دیکھ لیں۔
یہ پابندیاں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے۱۰؍اکتوبر کو جنتَر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر عائد کی گئی ہیں۔ پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گیانیش کمار پر انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی آڑ میں ووٹر فہرستوں میں ردوبدل اور اپنے دو ساتھی کمشنروں کو نظرانداز کرکے ووٹر کے طور پر اندراج کے لیے استعمال ہونے والے اہم دستاویز فارم۶ میں تبدیلیاں کرنے کے الزامات ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










