جموں؍۹اکتوبر
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے آج کشتواڑ دہشت گردانہ حملہ معاملے میں گرفتار ملزم منیر احمد ولد محمد یوسف کوہلی، ساکن نائدگام، چھاترو، اندروال، ضلع کشتواڑ، اور مارے گئے تین پاکستانی دہشت گردوں کے خلاف جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت میں فردِ جرم داخل کردی ہے۔
ان تین دہشت گردوں میں سیف اللہ عرف سیف اللہ کشمیری، عتیق نذیر اور عتیق الرحمٰن شامل ہیں۔ یہ معاملہ۲۲ فروری۲۰۲۶کو ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے کے وانی محلہ، پسر کوٹ میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے سے متعلق ہے۔
۵۳۵ صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں حملے کی سازش، مارے گئے تینوں دہشت گردوں، بالخصوص سیف اللہ، اور گرفتار ملزم منیر احمد کے کردار کی تفصیلات کے ساتھ متعلقہ شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سیف اللہ پاکستان کا رہائشی اور ممنوعہ دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد کا کمانڈر بتایا گیا ہے۔
این آئی اے کے مطابق منیر احمد پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ‘۱۹۶۷کی متعلقہ دفعات کے تحت ان دہشت گردوں کو جان بوجھ کر پناہ دینے اور چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جو جموں و کشمیر کے پہاڑی ضلع کشتواڑ میں سلامتی اہلکاروں اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ ایجنسی نے دہشت گرد ملزمان کے خلاف بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سرحد پار سے سازش رچنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی ہیں۔
حملے میں تین دہشت گرد ملوث تھے، جن کی قیادت دہشت گرد کمانڈر سیف اللہ کر رہا تھا۔ یہ گروہ کشمیر ٹائیگرز (عزرائیل گروپ) سے وابستہ بتایا گیا ہے، جو ممنوعہ تنظیم جیشِ محمد کے تحت سرگرم ہے۔ سلامتی فورسز کی جوابی فائرنگ میں تینوں دہشت گرد مارے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ضلع کشتواڑ کے بالائی علاقوں میں سرگرم اس گروہ نے متعدد حملے کیے تھے، جن میں سلامتی فورسز کے اہلکاروں اور مقامی شہریوں کی جانیں گئیں۔ گرفتار ملزم منیر احمد پر اس گروہ کو مدد فراہم کرنے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
این آئی اے نے تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے دوران اس معاملے کی سازش کے تانے بانے پاکستان سے جوڑے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق کیس میں مزید تحقیقات جاری ہے۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )










