پالیسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے میں اہم قدم ثابت ہو گی‘ قابل اعتماد توانائی تک رسائی میں اضافہ ہوگا :وزیرا علیٰ
سرینگر؍۸؍ اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی۲۰۲۶ صاف ایندھن تک رسائی کو وسعت دینے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
یہ پالیسی کابینہ کی منظوری کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کی گئی ہے۔
پالیسی کے تحت گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس(پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس(سی این جی) کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری دوست، واضح اور مقررہ مدت پر مبنی نظام وضع کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی میں اضافہ ہوگا اور صنعت و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ پالیسی کے تحت مرحلہ وار تمام۲۰؍ اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس سے صارفین کو صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس کی سہولت ان کے قریب دستیاب ہوگی اور روایتی ایندھن سے بتدریج منتقلی میں مدد ملے گی۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ پالیسی کا ایک اہم مقصد منصوبوں پر عمل درآمد کے عمل کو آسان اور تیز بنانا ہے۔ اس کے لیے سنگل ونڈو نظام، مقررہ مدت میں منظوری، آسان طریقہ کار، سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کے لیے سہل اجازت نامے اور رائٹ آف وے کے یکساں ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ سمیت بڑے صنعتی علاقوں کو گیس کنکشن کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی، جس سے صنعتوں کو قابل اعتماد توانائی کی سہولت حاصل ہوگی۔
حکومت کے مطابق پائپڈ اور کمپریسڈ قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع سے صارفین کو زیادہ محفوظ، صاف اور نسبتاً سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہوں گے۔ اس سے ایندھن کے اخراجات میں کمی، صنعتی کارکردگی اور مسابقت میں بہتری اور صاف توانائی کے ابھرتے ہوئے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی متوقع ہے۔
پالیسی سے مقامی سطح پر روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کے فروغ کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔ گیس کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال سمیت متعلقہ خدمات کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور محکمہ کو پالیسی کے نفاذ پر مبارکباد پیش کی۔انہوں نے اسے جموں و کشمیر میں صاف توانائی پر مبنی ترقی، پائیدار پیش رفت اور جدید توانائی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
اس سے پہلے جموں و کشمیر حکومت نے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی۲۰۲۶کو نافذ کردیا ہے، جس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تمام۲۰؍ اضلاع میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔
حکومت کے مطابق پالیسی کی اہم دفعات میں تمام۲۰؍ اضلاع میں گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی توسیع، سنگل ونڈو کے ذریعے مقررہ مدت میں منظوری، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانا اور رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) کے یکساں ضوابط شامل ہیں۔
پالیسی کے تحت بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کنکشن فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق اس پالیسی سے محفوظ، سستی اور نسبتاً صاف توانائی تک رسائی کو فروغ ملنے، ایندھن کے اخراجات کم ہونے اور صنعتی مسابقت مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
پالیسی کا مقصد صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور جموں و کشمیر میں روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کے فروغ کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)










