نئی دہلی؍۸؍اکتوبر
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن کی زیر صدارت جی ایس ٹی کونسل کے۵۷ویں اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں ملک بھر کے وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کے علاوہ حکومت ہند کی وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔
کونسل کے اجلاس میں جی ایس ٹی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مالی صلاحیت مضبوط بنانے، محصولات میں اضافے اور متوازن مالی وفاقیت کو آگے بڑھانے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جموں و کشمیر کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ کونسل کی جانب سے لیے گئے فیصلے جموں و کشمیر کی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے، معاشی ترقی کو فروغ دینے اور ترقیاتی و عوامی فلاحی سرگرمیوں میں تیزی لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
جی ایس ٹی کونسل نے آج ٹیکس دہندگان کو بڑی راحت دیتے ہوئے جی ایس ٹی افسران کے گرفتاری کے اختیارات ختم کرنے اور استغاثہ شروع کرنے کی مالی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر۵کروڑ روپے کرنے کی منظوری دے دی۔
کونسل، جس میں مرکزی اور ریاستی وزرائے خزانہ شامل ہیں، کے فیصلوں کو یکم اپریل۲۰۲۷ سے نافذ کیا جائے گا۔ کونسل نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی کے بجائے کاروباری عمل میں اصلاحات، تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی۔
کونسل کے فیصلے کے مطابق کم از کم سزا کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اب جرمانہ، قید یا دونوں میں سے کیا سزا دی جائے، اس کا فیصلہ ہر معاملے کے حقائق کی بنیاد پر عدالت کی صوابدید پر ہوگا۔
وزارت خزانہ کے مطابق عمومی جرمانہ، جو ان معاملات میں عائد ہوتا ہے جہاں کوئی مخصوص جرمانہ مقرر نہیں،۲۵ ہزار روپے سے کم کرکے۱۰ ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق اگر کوئی ٹیکس دہندہ ریٹرن جمع کرانے میں تاخیر کرتا ہے، غلطی کرتا ہے یا ٹیکس کی ادائیگی میں تاخیر کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف واجب الادا رقم کی وصولی، سود اور متناسب جرمانے کی کارروائی کی جائے گی، تاہم اس سے آگے کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
ملک بھر کے کاروباری اداروں کی جانب سے طویل عرصے سے سخت ٹیکس طریقہ کار کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ کونسل نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی کے بجائے عمل سے متعلق اصلاحات پر توجہ دی ہے، جن کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور ٹیکس تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔
گرفتاری کے اختیارات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے سیتارمن نے کہا کہ گرفتاری کا اختیار ٹیکس افسر کے ہاتھ سے نکال دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی قانون کے تحت مجرمانہ نوعیت کے معاملات میں استغاثہ کی کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے میں جرم کا عنصر موجود ہو تو قانون اس کے خلاف استغاثہ چلانے کی اجازت دیتا ہے۔
ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اور اہم راحت کے طور پر کونسل نے سفارش کی ہے کہ۱۰ ہزار روپے سے کم رقم سے متعلق معاملات میں نوٹس جاری نہ کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ایسے تمام زیر التوا نوٹس بھی واپس لیے جائیں گے جن میں رقم مقررہ حد سے کم ہے۔
سیتارمن نے کہا کہ اگر اس حد سے کم رقم کا نوٹس پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے تو اسے بھی واپس لے لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کا عمل اعتماد کے اصول پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کاروباری اداروں اور ٹیکس دہندگان پر اعتماد ضروری ہے اور اگر کاروبار باہمی اعتماد کے ساتھ معاملات انجام دے رہے ہوں تو حکومت کو غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










