نئی دہلی، 7 اکتوبر (یواین آئی) ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کے اضافے کو معیشت کی ضروریات کے مطابق قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ اس سے شعبے پر محدود اثر پڑے گا اور اس کے باوجود مانگ مستحکم رہے گی۔ ناریڈکوکے قومی صدر پروین جین نے کہا، "تہواروں کا سیزن ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بہت اہم رہتا ہے اور اس دوران شرحِ سود میں استحکام گھر کے خریداروں کے لیے مثبت رہتا ہے۔”
مہنگائی کے دباؤ کو تاہم کنٹرول کرنا اور معیشت میں استحکام برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایسے میں ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کو وسیع تر اقتصادی حالات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ فی الحال رہائشی مکانات کی مانگ مضبوط بنی ہوئی ہے۔ صارف کے مضبوط رجحان، تہوار کی مانگ اور گھر کی ملکیت کی طویل مدتی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہمارا ماننا ہے کہ اس اضافے کا رہائشی مارکیٹ پر اثر محدود رہے گا۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر اپنی موجودہ رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے بدھ کے روز ختم ہوئی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کا اعلان کیا اور اسے 5.25 فیصد سے بڑھا کر 5.50 فیصد کر دیا۔ اس سے ہوم لون سمیت تمام قرضے مہنگے ہونے کا امکان ہے۔
نِمبس گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ساحل اگروال نے کہا، "آر بی آئی کی جانب سے ریپو ریٹ بڑھانے کا فیصلہ وسیع تر اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے اور بدلتی ہوئی مہنگائی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے پر اس کی مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر مضبوط پوزیشن میں ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بڑھتے ہوئے مواقع کے ساتھ یہ سیکٹر مسلسل اپنی مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ہم ریئل اسٹیٹ کے مستقبل کو لے کر پرامید ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بڑے شہروں (میٹرو) کے ساتھ ساتھ ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں بھی مانگ مستحکم رہے گی۔”
لوہیا ورلڈ اسپیس کے منیجنگ ڈائریکٹر پیوش لوہیا نے کہا، "ریپو ریٹ میں اضافہ ریزرو بینک کی اقتصادی استحکام برقرار رکھنے پر مسلسل توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ریئل اسٹیٹ کے نقطہٴ نظر سے اس کا اثر مختلف خریدار طبقوں پر الگ الگ ہو سکتا ہے۔ پریمیئم اور لگژری سیگمنٹ عام طور پر فنانسنگ لاگت میں معمولی تبدیلیوں کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔”
مسٹر لوہیا نے امید ظاہر کی کہ تہواروں کا سیزن خرید و فروخت کے لیے ایک مضبوط موقع بنا رہے گا، کیونکہ خریدار صرف شرحِ سود کے بجائے مقام، مصنوعات کی کوالٹی اور طویل مدتی قدر کو ذہن میں رکھتے ہوئے خریداری کے فیصلے کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ڈیولپرز کے لیے نظم و ضبط کا انتظام اور مؤثر پروجیکٹ کے نفاذ کی اہمیت ہوگی۔






