نئی دہلی، 7 اکتوبر (یو این آئی) دہلی کی غیر مجاز کالونیوں میں رہنے والے لوگوں کو جائیداد کے حقوق دلانے کی سمت میں پی ایم ادے اسکیم کے نفاذ کو اب نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔
مرکزی حکومت نے دہلی میں جدید جیو اسپیشل اور جی آئی ایس پر مبنی سروے اور نقشہ سازی کا نظام تیار کرنے کے لیے 65 کروڑ روپے کے دِرِشٹی (دہلی ریونیو اینڈ امیجنگ سروے، اسپیشیل ٹیکنالوجی انیشی ایٹو) منصوبے کو منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہلی کے تمام 13 اضلاع میں پی ایم ادے سیل اور صدر دفتر میں ایک شاخ قائم کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دِرِشٹی منصوبے کے ذریعے جائیدادوں کے سروے اور نقشہ سازی کا کام زیادہ شفاف، منظم اور مقررہ وقت کے اندر کیا جا سکے گا۔ منصوبے کی کل تخمینی لاگت 65 کروڑ روپے ہے۔ اس میں 52 کروڑ روپے یعنی 80 فیصد رقم وزارتِ رہائش اور شہری امور کے شہری ترقیاتی فنڈ (یو ڈی ایف) سے گرانٹ کے طور پر ملے گی، جب کہ باقی 13 کروڑ روپے یعنی 20 فیصد رقم دہلی حکومت کے محکمہ محصولات کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے نفاذ کی ذمہ داری محکمہ محصولات کو سونپی گئی ہے۔
دِرِشٹی منصوبے کے ذریعے پی ایم ادے اسکیم کے لیے جیو اسپیشل اور جی آئی ایس پر مبنی جدید سروے نظام تیار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تمام 13 اضلاع میں پی ایم ادے سیل اور صدر دفتر میں ایک شاخ قائم ہونے سے جائیدادوں سے متعلق سروے، نقشہ سازی اور دستاویزات تیار کرنے کے عمل کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پی ایم ادے اسکیم کا مقصد دہلی کی نوٹیفائیڈ غیر مجاز کالونیوں میں رہنے والے لوگوں کو ان کے گھروں اور جائیدادوں کے ملکیتی حقوق فراہم کرنا ہے۔ اس کام میں ڈی ڈی اے، دہلی حکومت کے محکمہ محصولات اور دہلی میونسپل کارپوریشن کا کردار ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ایم ادے اسکیم صرف جائیداد سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کا عمل نہیں ہے بلکہ غیر مجاز کالونیوں میں رہنے والے لاکھوں خاندانوں کو ان کے گھر اور جائیداد سے متعلق حقوق کا قانونی تحفظ فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اہل افراد کو اپنے حقوق حاصل کرنے میں غیر ضروری پریشانی نہ ہو اور اسکیم کا فائدہ تیزی سے زمینی سطح تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کے عزم کے مطابق دہلی کے باشندوں کو ان کے حقوق اور عزت دلانے کے لیے پرعزم ہے۔






