سرینگر؍۷؍اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی وزارتی کونسل میں توسیع کے بارے میں فیصلہ غالباً دہلی سے واپسی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے مشاورت کے بعد لیا جائے گا۔
سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے بعد اور پارٹی صدر سے مشاورت کے بعد وزارتی کونسل میں توسیع کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بعض تبادلے منتخب حکومت نے کیے ہیں جبکہ کچھ تبادلے لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے عمل میں لائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف محکموں میں تعینات افسران کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
سرکاری میڈیکل کالجوں (جی ایم سی) کے زیر التوا بھرتی قوانین کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قوانین تقریباً تیار ہیں اور انہیں حتمی شکل دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’جو قوانین تیار کیے گئے تھے اور جو قوانین تجویز کیے گئے تھے، ان کے درمیان کچھ تضادات تھے۔ ان تضادات کو دور کیا جا رہا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اس عمل میں عجلت نہیں کرنا چاہتی تاکہ قوانین کے نفاذ کے دوران کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی قوانین جلد مشتہر کیے جانے کی توقع ہے۔
کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایک ہی وقت میں سہولیات میں توسیع اور کوچز کی تقرری پر کام کر رہی ہے تاکہ جموں و کشمیر بھر کے نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر تربیت کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر میں اولمپک معیار کا ایک سوئمنگ پول قائم کیا گیا ہے اور اسے شمسی توانائی سے گرم رکھنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سال بھر تربیت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک انڈور جمناسٹک ہال کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کے بچوں نے جمناسٹک میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم انہیں مناسب بنیادی ڈھانچے کی کمی کا سامنا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہم روایتی کھیلوں جیسے کرکٹ، فٹ بال، ہاکی اور والی بال سے آگے بڑھنے اور اپنے بچوں کو مزید کھیلوں اور متبادل مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے۲۵ سال مکمل ہونے کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ اتنے طویل عرصے تک مسلسل انتخابات جیتنا آسان نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا، ’’میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
چیف الیکشن کمشنر سے متعلق احتجاج کے بارے میں عمر عبداللہ نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ غلط تھی تو حکومت نے اس کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کیوں نہیں کی۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہ درست نہیں ہوتا تو حکومت ان کے خلاف کارروائی کرتی، کم از کم ہتک عزت کا مقدمہ تو دائر انہوں نے کہا کہ جاری احتجاج انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے دہلی میں حالیہ اجلاس کے بعد اعلان کردہ پروگرام کا حصہ ہیں۔
جموں و کشمیر میں انتخابی فہرستوں کی مجوزہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اس مشق کو انتخابات میں مداخلت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ حد بندی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کا مقصد بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانا تھا۔انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے ہی ایسی مداخلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم ابھی تک حد بندی کو نہیں بھولے ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے سپریم کورٹ میں جاری کارروائی، بالخصوص فارم۶سے متعلق معاملے پر بھی امید ظاہر کی کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










