جموں؍۵ ؍اکتوبر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جموں (رجسٹرڈ) نے پیر کو موٹر وہیکل قانون کے تحت الیکٹرانک ٹریفک چالان نظام سے متعلق حالیہ ترامیم اور پالیسی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی۔
ایسوسی ایشن کے ارکان نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤثر ٹریفک نظام، سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین کے ذمہ دارانہ نفاذ کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ نئے ای-چالان نظام کو جس طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے، اس کا عام شہریوں، گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔
جے کے بی اے جے کے صدر کے نرمل کوتوال نے نائب صدر بلدیو سنگھ، جنرل سکریٹری پردیپ مجوترا، جوائنٹ سکریٹری انشو مہاجن اور خزانچی راہل اگروال کے ہمراہ کہا کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں تکنیکی ترقی کے ساتھ شفافیت، جواب دہی، طریقہ کار میں انصاف اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات بھی ضروری ہیں۔
ایسوسی ایشن نے ای چالان خودکار طور پر جاری کرنے اور ان کی وصولی سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات کی جانب توجہ دلائی، خاص طور پر ان حالات میں جب کوئی شہری مبینہ خلاف ورزی، ڈرائیور کی شناخت، الیکٹرانک ریکارڈ کی درستگی یا چالان جاری کیے جانے کے حالات پر اعتراض کرے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کتنا ہی جدید نفاذ کا نظام کیوں نہ ہو، وہ قدرتی انصاف کے بنیادی اصولوں اور قانونی طریقہ کار سے الگ ہو کر کام نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہاکہ ’’شہریوں کو مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد جاننے، غلط چالان پر اعتراض کرنے، مناسب اصلاح یا نظرثانی کی درخواست کرنے اور جہاں کوئی غلطی ہوئی ہو وہاں مؤثر تدارک حاصل کرنے کا بامعنی اور آسان موقع ملنا چاہیے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے ان عوامی افراد کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی جو تکنیکی سہولیات سے پوری طرح لیس نہیں ہیں یا جنہیں الیکٹرانک چالان تک رسائی حاصل کرنے، اسے سمجھنے یا اس پر اعتراض کرنے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام انصاف اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ شہریوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرنے کا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










