نئی دہلی، 3 اکتوبر (یو این آئی) عام آدمی پارٹی کی سابق چیف قومی ترجمان اور سپریم کورٹ کی سینئر ایڈوکیٹ پرینکا ککڑ، اتر پردیش کے سابق ایم ایل اے اور سابق وزیر شیام سندر شرما، سینئر صحافی رجت راکیش ٹنڈن اور اتر پردیش کے سابق میونسپل بورڈ کے چیئرمین حاجی ریحان خان سمیت کئی کونسلرز اور دیگر رہنما ہفتہ کے روز کانگریس میں شامل ہو گئے۔
کانگریس کے اتر پردیش کے انچارج راجندر پال گوتم، جموں و کشمیر اور لداخ کے انچارج ناصر حسین، ورکنگ کمیٹی کے رکن راجیو شکلا، کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا اور دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے ہفتہ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ان رہنماؤں کو پٹا پہنا کر کانگریس کی رکنیت دلائی اور ان کا استقبال کیا۔
مسٹر گوتم نے تمام رہنماؤں کا کانگریس میں استقبال کرتے ہوئے بی جے پی پر نشانہ لگایا اور کہا کہ بی جے پی ایک آمریت پسند پارٹی ہے اور اس کا جمہوریت اور آئین پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی عوام کے مسائل پر بات کرنے کے بجائے صرف نفرت کی سیاست کرتی ہے۔ یہ حکومت دھرنا دینے پر روک لگا دیتی ہے جبکہ اس کا حق آئین دیتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے؟ بی جے پی کے دورِ حکومت میں مظالم جاری ہیں اور اتر پردیش میں ذات پات کی بنیاد پر استحصال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں دوسری پارٹیوں کے لوگ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ایسے حالات میں ملک کو امید کے طور پر صرف راہل گاندھی دکھائی دے رہے ہیں، جو جمہوریت اور آئین کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی ملک کی امید ہیں اور ان کی نظریات سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں لوگ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ لداخ سے کنیا کماری تک لوگ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔
ریاستی کانگریس کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی سے متعلق سوال پر مسٹر گوتم نے کہا کہ عہدے پر مدتِ کار پوری ہونے کے بعد پارٹی نے یہ عمل پورا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی صدر کو بدلنا ایک عام عمل کا حصہ ہے اور جلد ہی ریاست میں تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے مزید تبدیلیاں کی جائیں گی اور اس میں تمام طبقات کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
مسٹر شکلا نے کہا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے۔ اتر پردیش کے بااثر رہنما مسٹر شرما آٹھ بار ایم ایل اے اور سابق وزیر رہ چکے ہیں۔ محترمہ پرینکا ککڑ اور مسٹر رجت راکیش ٹنڈن بھی کانگریس سے جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کے ساتھ آنے سے اتر پردیش اور ملک کی سیاست پر اثر پڑے گا۔
محترمہ ککڑ نے کانگریس کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد کہا کہ وہ دہلی کو پھر سے سبز، صاف ستھرا، ترقی پسند اور محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں، جیسی وہ ان کے بچپن کے دنوں میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی سیاست میں ایک دہائی سے زیادہ کے تجربے کے بعد ان کا یقین ہے کہ کانگریس ہی ایسا کر سکتی ہے۔ عام آدمی پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بنگلہ اور گاڑی نہیں لے گی، لیکن بعد میں ذاتی سفر کے لیے چاپر کا استعمال ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی ‘ووٹ چوری’ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انہوں نے عوام کو بتایا ہے کہ ان کا ووٹ چرایا جا رہا ہے۔
مسٹر گوتم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اپنی جنتا پارٹی کے رہنما اور اتر پردیش کے سابق وزیر سوامی پرساد موریہ نے ہفتہ کے روز کانگریس رہنما راہل گاندھی سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر موریہ کی ملاقات ہوئی ہے اور فی الحال وہ اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم نہیں کر رہے ہیں، لیکن الیکشن کانگریس کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ ان کے خاندان کا کانگریس سے پرانا تعلق رہا ہے اور ان کی سوچ اور سمجھ کانگریس پارٹی کے ساتھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی کے طور پر طویل عرصے تک کانگریس کو کور کرنے کے دوران انہوں نے دیکھا کہ یہ ایسی پارٹی ہے، جس میں لوگوں کی بات سنی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نوجوان پریشان ہے اور سڑکوں پر ہے، لیکن اس کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر کسی نے نوجوانوں کے لیے آواز اٹھائی ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ دبے اور کئی لوگ چپ ہوئے، لیکن راہل گاندھی مضبوطی سے کھڑے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ مسٹر ٹنڈن مجاہدِ آزادی پرشوتم داس ٹنڈن کے خاندان سے ہیں اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔
اس موقع پر اتر پردیش کے بہرائچ سے حاجی ریحان خان، کونسلر سجن احمد، وشال کمار، سنیل کمار سمیت مختلف جماعتوں سے وابستہ کئی رہنماؤں اور ان کے حامیوں نے کانگریس کی رکنیت حاصل کی۔







