پڈوچیری، 2 اکتوبر (یواین آئی) یش راٹھوڑ اور شمس ملانی نے دباؤ میں شاندار بلے بازی کرتے ہوئے ہندوستان اے کو پڈوچیری میں آسٹریلیا اے کے خلاف سیریز 1-0 سے جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں دوسرے سیشن میں کریز پر آئے اور طویل وقت تک آسٹریلیا اے کے گیندبازوں کو کامیابی سے دور رکھا۔ راٹھوڑ 80 رنز بنا کر میچ ختم ہونے سے 6.4 اوور پہلے ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انہوں نے ریویو لیا اور دعویٰ کیا کہ گیند اسٹمپس کے اوپر سے جارہی تھی، لیکن بال ٹریکنگ میں امپائرز کال آنے کے بعد انہیں پویلین لوٹنا پڑا۔ دوسری جانب ملانی نے نچیکیت بھوتے کے ساتھ مل کر کچھ وقت نکالا، لیکن دن کا کھیل ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے لیام اسکاٹ نے انہیں بھی ایل بی ڈبلیو کردیا۔
اس کے بعد ہندوستان اے کو صرف آخری تین اوور نکالنے تھے۔ بھوتے اور پرفُل ہِنگے نے کوئی خطرہ مول نہیں لیا اور ٹیم کو محفوظ منزل تک پہنچا دیا۔ بھوتے نے کچھ مثبت شاٹس بھی کھیلے، جس سے آسٹریلیا اے کی امیدوں کو دھچکا لگا۔ پہلا غیر تسلیم شدہ ٹیسٹ ہندوستان نے جیتا تھا اور دوسرا ڈرا رہا۔ اس طرح ہندوستان نے سیریز اپنے نام کرلی۔
دن کا آغاز بھی ہندوستان اے کے لیے حوصلہ افزا رہا۔ گزشتہ روز ناٹ آؤٹ رہنے والے بلے باز آیوش پانڈے اور تشار دیش پانڈے نے پہلے گھنٹے میں آسٹریلیا اے کو کوئی کامیابی حاصل نہیں کرنے دی۔ تاہم ڈرنکس بریک سے ٹھیک پہلے اسکاٹ کی ایک گیند نیچی رہی اور پانڈے ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
دیش پانڈے نے اس کے بعد بھی تحمل برقرار رکھا اور اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کی دوسری نصف سنچری مکمل کی۔ کپتان دیودت پڈیکل نے ان کا اچھا ساتھ دیا۔ دونوں نے پہلا سیشن نکالتے ہوئے ہندوستان اے کو مقابلے میں برقرار رکھا۔ ایک وقت ایسا بھی لگا کہ ٹیم ہدف کا تعاقب کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
تاہم دوسرے سیشن میں میچ کا رخ بدل گیا۔ پڈیکل سب سے پہلے آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیند پر بلّا لگایا اور اسکاٹ کو وکٹ دلوا بیٹھے۔ دیش پانڈے نے نصف سنچری مکمل کی، لیکن کچھ دیر بعد ایسی گیند پر آؤٹ ہوگئے جو پچ پر رک کر آئی۔
پہلے میچ کے ہیرو رہے کمار کشاگرا اس بار بڑی اننگز نہیں کھیل سکے۔ تاہم ان کے آؤٹ ہونے میں بدقسمتی کا بھی ہاتھ رہا۔ جس گیند پر وہ آؤٹ ہوئے، وہ انتہائی نیچی رہی اور تقریباً لڑھکتے ہوئے اسٹمپس سے جا ٹکرائی۔
اس کے بعد شیخ رشید اور راٹھوڑ نے اننگز سنبھالی۔ رشید نے صرف دفاع کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ موقع ملنے پر رنز بھی بٹورے۔ انہوں نے آن سائیڈ پر کچھ خوبصورت شاٹس لگائے اور تیزی سے 38 رنز تک پہنچ گئے۔ لیکن ایک غلط اندازہ ان کی اننگز پر بھاری پڑ گیا۔ وہ نیتھن میک سوینی کی لینتھ گیند پر پیچھے ہٹے، لیکن وقت پر بلّا نیچے نہیں لا سکے اور آؤٹ ہوگئے۔
ودربھ کے لیے کئی دباؤ والی اننگز کھیلنے والے اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55 سے زیادہ کی اوسط رکھنے والے راٹھوڑ نے بھی مثبت انداز اپنایا۔ انہوں نے کچھ خطرات مول لیے اور رن ریٹ کو تھمنے نہیں دیا۔ ان کا فٹ ورک بھی زیادہ تر وقت بہترین رہا۔ کبھی وہ آگے بڑھ کر گیند کی پچ تک پہنچے تو کبھی کریز کی گہرائی کا استعمال کیا۔ مشکل حالات سے ٹیم کو نکالنے کا ان کا تجربہ بھی کام آیا، تاہم وہ ٹیم کو جیت کی منزل تک نہیں پہنچا سکے۔
ملانی کو بھی تقریباً ایسی ہی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ پوری اننگز کے دوران پرسکون اور صبر کے ساتھ کھیلتے رہے اور آسٹریلیا اے کی ہر کوشش کو ناکام بناتے رہے۔ لیکن راٹھوڑ کی طرح وہ بھی دن کے آخر میں اسکاٹ کا شکار بنے۔
آسٹریلیا اے کے لیے بھی کچھ مثبت پہلو رہے۔ اسکاٹ اس کے سب سے مؤثر گیندباز رہے۔ انہوں نے پانچ وکٹیں لے کر اپنی آل راؤنڈ صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا۔ ان کا اونچا ریلیز پوائنٹ اور اسٹمپ ٹو اسٹمپ لائن بلے بازوں کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنی، خاص طور پر ایسی پچ پر جہاں گیند نیچی رہ رہی تھی۔
آسٹریلیا اے 358 (ہارپر 128، سنگھا 46، کمبوج 3-34، بھوتے 3-44) اور 173/4 (سنگھا 44 ناٹ آؤٹ، کانسٹاس 40، کوٹیان 2-55) بمقابلہ ہندوستان اے 167 (رشید 42، رچرڈسن 3-37) اور 310/9 (راٹھوڑ 80، دیش پانڈے 52، اسکاٹ 5-37)۔ میچ ڈرا رہا۔





