سری نگر؍۲؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے صدر ‘فاروق عبداللہ نے اسمبلی سے منظور کی گئی ریاستی حیثیت کی قرارداد پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی تنقید پر جمعہ کو سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ زعفرانی جماعت شروع سے ہی جموں و کشمیر کے لوگوں کو زیرِ تسلط رکھنا چاہتی رہی ہے۔
۲۸ ستمبر کو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جب فاروق عبداللہ سے بی جے پی کی جانب سے ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیے جانے پر ردعمل پوچھا گیا تو انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’شروع ہی سے وہ (بی جے پی) جموں و کشمیر کے لوگوں کو غلام بنانا چاہتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
قرارداد میں ایوان کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی خودمختاری میں اضافے اور خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا، ’’اس ایوان کی جانب سے۲۶ جون۲۰۰۰؍اور۶نومبر۲۰۲۴کو منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور بلا تاخیر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومتِ ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
۲۶ جون۲۰۰۰کو نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے۹؍ اگست۱۹۵۳سے قبل کی حیثیت کے مطابق زیادہ خودمختاری کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔۶نومبر۲۰۲۴کو ایوان نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی تھی۔
جب فاروق عبداللہ سے پوچھا گیا کہ آیا خودمختاری کا معاملہ اب بھی متعلقہ ہے تو نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا، ’’کون کہتا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں؟ لیکن ان (بی جے پی) کے لیے نہیں۔ ملک کے آزاد ہونے کے بعد سے وہ ہمیشہ اس کے خلاف رہے ہیں۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘
تین مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے فاروق عبداللہ نے اسمبلی میں نیشنل کانفرنس حکومت پر اپوزیشن کی تنقید کو بھی جمہوری عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحت مند تنقید ہے۔
این سی صدر نے کہا، ’’یہی تو اسمبلی کا مقصد ہے کہ وہاں بحث ہو۔ بحث کے دوران اگر حکومت سے غلطیاں ہوئی ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے اور حکومت ان کا جواب دے۔ اسمبلی کا یہی مقصد ہے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بنانا درست ہے تو فاروق عبداللہ نے کہا، ’’تو کیا ہوا؟ وزیر اعلیٰ کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔ جو شخص اس کرسی پر بیٹھتا ہے، اسے ان چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










