نئی دہلی، 26 ستمبر (یو این آئی) مرکزی سکریٹری صحت پُنیا سلیلا شریواستو نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں عالمی وبائی امراض کی روک تھام، تیاریوں اور ردِعمل کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے حوالے سے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے ہفتے کے روز بتایا کہ 25 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ میٹنگ میں محترمہ شریواستو نے کووڈ-19 وبا سے ملنے والے سبق کو پائیدار سرمایہ کاری، ادارہ جاتی صلاحیت اور لچکدار صحت کے نظام میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ وبا سے نمٹنے کی تیاری حکومت اور معاشرے کے مختلف سطحوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لیبارٹری نیٹ ورک، ہنگامی ہم آہنگی، ہیلتھ ورک فورس، طبی ذخائر اور تشخیصی دیکھ بھال کی صلاحیت میں توسیع کے لیے ہندوستان میں کی جانے والی کوششوں کی معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ وبا سے نمٹنے کے انتظام کی بنیاد قومی ہیلتھ سسٹمز، ترقیاتی منصوبے اور ملکی مالی اعانت ہونی چاہیے نیز بین الاقوامی امداد قومی ذمہ داری کی تکمیل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کووڈ-19 کے دوران ہندوستان کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو عالمی عوامی اثاثے کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل حلوں نے وبا کے دوران نگرانی، ٹیکہ کاری، خطرے کے مواصلات، سپلائی چین اور صحت کی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے کووڈ-19 کے دوران تقریباً 100 ممالک اور اقوامِ متحدہ کے دو اداروں کو 30 کروڑ ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں، جبکہ 150 سے زائد ممالک کو طبی امداد فراہم کی۔
انہوں نے مئی 2025 میں اپنائے گئے ڈبلیو ایچ او پینڈیمک معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ساکھ پیتھوجین تک رسائی اور فوائد کی تقسیم (پی اے بی ایس) کے منصفانہ اور مساوی نظام پر منحصر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیتھوجینز اور حیاتیاتی وسائل میں اپنا تعاون دینے والے ممالک کو قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ویکسین، تشخیصی وسائل، علاج، ٹیکنالوجی اور دیگر فوائد تک وقت پر رسائی ملنی چاہیے۔ انہوں نے وبائی امراض کی روک تھام، تیاریوں اور ردِعمل کے لیے مساوات نیز عالمی یکجہتی کو مرکز میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے بھی عالمی وبائی تیاریوں کو مضبوط کرنے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی۔ انہوں نے کووڈ-19 کے بعد عالمی صحت سکیورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی سمت میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او پینڈیمک معاہدے اور بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترمیمات کو اہم قدم قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ کی نائب سکریٹری جنرل امینہ محمد نے کووڈ-19 کے بعد لا پروائی سے بچنے اور وبائی تیاریوں پر مسلسل سیاسی توجہ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ابتدائی شناخت، نگرانی اور مواصلات کے لیے کمیونٹی پر مبنی نظام کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔







