نئی دہلی، 26 ستمبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور ‘مارگ درشک منڈل’ کے رکن ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے بدریناتھ دھام کے قریب منعقدہ کنسرٹ اور ڈی جے ثقافتی پروگرام کو ثقافتی حدود کی خلاف ورزی اور مقدس دھام کے وقار پر "براہِ راست حملہ” قرار دیا ہے۔
سابق مرکزی وزیر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بدریناتھ دھام میں میوزک کنسرٹ یا ڈی جے پروگرام کی اجازت دینا نہ صرف ثقافتی حدود کی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ اس مقدس مقام کے تقدس پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آدی گرو شنکراچاریہ مہاراج نے اس مقدس دھام کا قیام پرسکون ماحول میں بھگوت بھجن اورپربھو کی آرادھنا کے لیے کیا تھا۔
بی جے پی رہنما نے اس دھام کی مخصوص روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس جگہ پر شنکھ بجانا تک ممنوع ہے۔ اس کے باوجود، اس روایت کو نظر انداز کرتے ہوئے تیز موسیقی والے پروگراموں کا انعقاد کر کے ہم ہندوستانی روحانی، ثقافتی اور ماحولیاتی قدروں کی شدید تذلیل کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی، اتنی زیادہ بلندی پر ہزاروں لوگوں کی جانب سے رقص کرنے سے ان کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔”
مسٹر جوشی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ‘دیو بھومی’ کو اب تجارتی ثقافت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی ثقافت کے پیروکاروں، خاص طور پر شنکراچاریوں اور سنتوں سے ثقافتی قدروں کے اس زوال کے خلاف مؤثر آواز اٹھانے کی اپیل کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرکزی اور اتراکھنڈ حکومت سے ایسے پروگراموں پر فوری طور پر روک لگا کر دیو بھومی کے وقار اور تقدس کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ 19 اور 20 ستمبر کو بدریناتھ کے ‘ٹورسٹ ارائیول پلازہ’ میں ہندوستانی فوج کے ‘آپریشن سدبھاؤنا’ کے تحت چمولی ضلع انتظامیہ اور اتراکھنڈ سیاحت کی شراکت سے دو روزہ ‘دیو بھومی کلچرل فیسٹیول-2026’ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں تیز موسیقی اور ڈانس پرفارمنس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سادھو سنیاسیوں، تیرتھ پروہتوں اور عقیدت مندوں کے درمیان شدید غصہ دیکھا جا رہا ہے۔







