واشنگٹن، 16 ستمبر (یو این آئی) امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی فردِ جرم کے مطابق روسی انٹیلی جنس سے مبینہ طور پر وابستہ سازشوں میں نگرانی، افراد کی بھرتی اور قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
استغاثہ نے منگل کو کہا کہ یہ گروپ روسی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے دنیا بھر میں، بشمول امریکہ، حملے اور قتل کی کارروائیاں انجام دینے کے لیے کام کر رہا تھا اور پانچوں ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
ملزمان کی شناخت 63 سالہ روسی شہری یوری خرمیف، اس کے 27 سالہ بیٹے کریل خرمیف، 35 سالہ کیوبا کے شہری اومیس روماغوزا دوروتھی اور یائیڈل ڈیلگادو سواریز اور 22 سالہ وینزویلا کے شہری اینجل ایڈورڈو کاسترو کے طور پر کی گئی ہے۔
پانچوں پر دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ خرمیف، سواریز اور کاسترو کو معاوضے کے عوض قتل کرنے کی سازش کے اضافی الزامات کا بھی سامنا ہے۔
اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانشے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان سازشوں میں روسی حکومت کے ایک مخالف کو قتل کرنے کی کوشش بھی شامل تھی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں مقیم ہے۔
محکمہ انصاف کے حکام نے بتایا کہ اس نیٹ ورک نے امریکہ میں متعدد افراد کو روسی حکومت کے مخالفین کی نگرانی کے لیے بھرتی کیا تھا، جن میں امریکہ اور لیتھوانیا دونوں میں موجود افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک معاملے میں مبینہ طور پر ایک بھرتی کیے گئے شخص کو امریکہ میں موجود ایک ہدف کو ’’غائب‘‘ کرنے کے لیے 40 ہزار ڈالر دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔ ایک دوسرے شخص کو گزشتہ سال لیتھوانیا میں کسی فرد کو قتل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 25 ہزار ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی۔
امریکہ میں روسی سفارتخانے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ماسکو مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے کہ اس نے بیرون ملک، بشمول امریکہ میں، قتل کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا انہیں انجام دینے کا اہتمام کیا ہے۔






