بیجنگ، 16 ستمبر (یو این آئی) چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اور رجعت پسند تاریخی رجحانات کی دوبارہ واپسی کو روکنا چاہیے۔
ڈونگ نے بدھ کو 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کا افتتاح کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ ان کے تبصرے کو بالواسطہ طور پر جاپان پر تنقید سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی وسیع تقریر میں بین الاقوامی کشیدگی کے حل کے لیے ایک نئے اور زیادہ جامع طریقۂ کار پر زور دیا، تاہم اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں اور نہ ہی کسی حریف ملک پر براہ راست تنقید کی۔
ڈونگ نے کہا، ’’ہمیں تاریخ کے اسباق کو مدنظر رکھنا چاہیے اور بالادستی، عسکریت پسندی اور تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے تمام پوشیدہ مظاہر کے خلاف انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں ایسے رویے سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں اور نہ ہی اسے برداشت کرنا چاہیے۔ انصاف کی وسیع قوتوں کو متحد کرتے ہوئے ہمیں تاریخ کے ان باقیات کی دوبارہ واپسی کو روکنا چاہیے۔‘‘
یہ فورم تائیوان اور متنازع جنوبی بحیرۂ چین کے حوالے سے علاقائی کشیدگی میں اضافے اور ایشیا کے لیے امریکہ کے روایتی سلامتی وعدوں کے بارے میں بڑھتے شکوک کے درمیان منعقد ہو رہا ہے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کے آئندہ ہفتے واشنگٹن کے متوقع دورے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔
ڈونگ کی تقریر ان تبصروں کا تسلسل تھی جو انہوں نے فورم سے قبل غیر ملکی مہمانوں سے ملاقاتوں کے دوران کیے تھے۔ انہوں نے میانمار، برونائی، بیلاروس، آذربائیجان، کرغزستان اور آرمینیا کے دفاعی حکام کے علاوہ آسیان کے سیکریٹری جنرل کاؤ کم ہورن سے الگ الگ ملاقاتوں میں فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ سلامتی کا تصور پیش کیا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بیجنگ نے شیانگ شان فورم کو فوجی سفارت کاری کے اپنے اہم پلیٹ فارم کے طور پر احتیاط سے فروغ دیا ہے اور اسے سنگاپور کے شانگری لا ڈائیلاگ کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ درجنوں ممالک کے سیکڑوں فوجی افسران، سفارت کاروں اور ماہرین تعلیم کو یکجا کرنے والا یہ تین روزہ اجلاس چین کو کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ اور عالمی جنوب کے لیے زیادہ مؤثر آواز کی حمایت کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے مطابق ڈونگ نے امریکہ یا اس کے علاقائی اتحادیوں، بشمول جاپان، پر براہ راست تنقید نہیں کی۔







