ماسکو، 3 ستمبر (اسپوتنک): وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کے وکلا نے امریکہ کی عدالت میں ان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی عدالت کو اس معاملے کی سماعت کا قانونی اختیار حاصل نہیں، کیونکہ مادورو کو ایک خودمختار ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں مادورو کے وکلا نے کہا کہ سربراہِ مملکت کی حیثیت سے انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت مخصوص تحفظ حاصل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری عہدے پر انجام دیے گئے اقدامات کے حوالے سے بھی مادورو کو قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، لہٰذا ان اقدامات کی بنیاد پر امریکی عدالت میں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب 3 جنوری کو امریکہ نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں فوجی کارروائی کی، جس کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا۔ وہاں مادورو کو امریکی قانون کے تحت مبینہ ’’منشیات دہشت گردی‘‘ سمیت دیگر الزامات کا سامنا ہے۔
مادورو کے دفاعی وکلا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سربراہِ مملکت کے طور پر حاصل استثنیٰ اور عدالت کے دائرۂ اختیار سے متعلق اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے۔ تاہم عدالت کی جانب سے اس درخواست پر حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔







