بدھ, جولائی 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home رائے

غیر مجاز وصولیاں: مستقل حل تلاش کرنا ناگزیر                

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-01
in رائے
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا انحصار بیرونی ریاستوں سے ہونے والی تجارت پر ہے۔ وادی کی جغرافیائی ساخت اور محدود مقامی پیداوار کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء، خصوصاً مویشی، دیگر ریاستوں سے یہاں پہنچائے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر بین الریاستی نقل و حمل کسی بھی وجہ سے متاثر ہو تو اس کے اثرات صرف تاجروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری معیشت، بازار، صارفین اور عام شہریوں کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے پنجاب کے راستے جموں و کشمیر آنے والی مویشی بردار گاڑیوں سے مبینہ طور پر غیر مجاز فیسوں کی وصولی کا معاملہ اسی نوعیت کا ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، جسے وقتی بیانات یا خط و کتابت کے ذریعے نہیں بلکہ مستقل اور دیرپا بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مٹن ڈیلرز کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ پنجاب میں مختلف مقامات پر ان کی گاڑیوں سے پندرہ سے بیس ہزار روپے تک کی رقوم وصول کی جا رہی ہیں، حالانکہ وہ پنجاب سے مویشی خریدتے ہی نہیں بلکہ ہریانہ، راجستھان، دہلی اور دیگر ریاستوں سے خریدے گئے جانور صرف پنجاب کے راستے جموں و کشمیر لاتے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہ صرف بین الریاستی تجارت کی روح کے خلاف ہے بلکہ ایک ایسا بوجھ بھی ہے جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑتا ہے۔

اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ فوری طور پر حل نہ ہوا تو وادی میں گوشت کی سپلائی متاثر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ شادیوں کے موجودہ سیزن میں اس بحران کے اثرات زیادہ نمایاں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں وازوان کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ صرف شادیوں یا مٹن کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پوری سپلائی چین، ہزاروں تاجروں، ٹرانسپورٹروں، مزدوروں اور لاکھوں صارفین کے مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

متعلقہ

آوارہ کتوں کا بحران : اعداد و شمار سے آگے کی حقیقت

ریاستی درجے کی بحالی :سیاسی جماعتیں لداخ سے کچھ سیکھیں

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کو خط لکھ کر اس مسئلے کی جانب توجہ دلانا ایک مثبت اور بروقت قدم ہے۔ انہوں نے نہ صرف غیر مجاز وصولیوں پر تشویش ظاہر کی بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ محکمہ خوراک، شہری رسدات و امور صارفین کی داخلی کمیٹی نے بھی اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ایسی وصولیوں کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے یہ حقیقت بھی اجاگر کی کہ مویشیوں کی نقل و حمل اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) سے مستثنیٰ ہے، اس لیے اس نوعیت کی اضافی وصولیوں کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک خط لکھ دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ گزشتہ برسوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی اس نوعیت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، دونوں ریاستوں کے درمیان وقتی رابطے قائم ہوتے ہیں، چند یقین دہانیاں ملتی ہیں، حالات کچھ عرصے کے لیے معمول پر آ جاتے ہیں، لیکن چند ماہ بعد یہی مسئلہ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کی جڑیں وقتی نہیں بلکہ انتظامی اور پالیسی سطح پر موجود ہیں۔

اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اس معاملے کو صرف موجودہ بحران تک محدود نہ رکھے بلکہ پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر ایک ایسا مستقل انتظامی نظام تشکیل دے جو مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات کو جنم لینے ہی نہ دے۔ دونوں ریاستوں کے متعلقہ محکموں کے درمیان ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی قائم کی جا سکتی ہے جو مویشیوں کی نقل و حمل سے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کرے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور کسی بھی غیر مجاز وصولی یا رکاوٹ کی صورت میں فوری کارروائی کو یقینی بنائے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مویشی بردار گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک شفاف اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے۔ اگر تمام گاڑیوں کی پیشگی رجسٹریشن، آن لائن اجازت نامے اور الیکٹرانک تصدیق کا مربوط نظام موجود ہو تو نہ صرف غیر ضروری چیکنگ کم ہوگی بلکہ غیر قانونی وصولیوں کے امکانات بھی بڑی حد تک ختم ہو جائیں گے۔

یہ معاملہ صرف جموں و کشمیر اور پنجاب تک محدود نہیں بلکہ وفاقی نظام کے بنیادی اصولوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آئین ہر ریاست کو آزادانہ تجارت اور نقل و حمل کے اصول کا پابند بناتا ہے۔ اگر کسی ایک ریاست میں ٹرانزٹ کے نام پر غیر مجاز رکاوٹیں پیدا ہونے لگیں تو اس کے اثرات دوسرے شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آج مویشی بردار گاڑیاں متاثر ہیں، کل پھل، سبزیاں، دودھ یا دیگر ضروری اشیا بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف ایک تجارتی تنازع نہیں بلکہ قومی اقتصادی ہم آہنگی کا معاملہ بھی ہے۔

اگر پنجاب میں مویشی میلوں یا دیگر ٹھیکوں کے نام پر بعض عناصر واقعی غیر قانونی وصولیوں میں ملوث ہیں تو پنجاب حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اسی طرح جموں و کشمیر حکومت کو بھی اس معاملے کی مسلسل نگرانی کرنی چاہیے اور اسے صرف احتجاجی بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

اگر دونوں ریاستوں کے درمیان مذاکرات کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا تو پھر اسے شمالی زون ریاستی کونسل اور مرکزی حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھایا جانا چاہیے۔ چونکہ یہ بین الریاستی تجارت کا معاملہ ہے، اس لیے مرکز بھی ایک ایسا مستقل فریم ورک وضع کر سکتا ہے جس کے تحت ٹرانزٹ گاڑیوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر متعین کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومت کو ایک طویل المدتی حکمت عملی کے تحت مقامی مویشی پروری کے شعبے کو بھی مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ مستقبل میں بیرونی ریاستوں پر انحصار کسی حد تک کم ہو سکے۔ اگرچہ موجودہ ضروریات کو مکمل طور پر مقامی پیداوار سے پورا کرنا ممکن نہیں، تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید سہولیات فراہم کرکے درآمدی دباؤ میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور پنجاب حکومت سے براہ راست رابطہ کیا ہے، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ معاملہ محض ایک خط یا چند ملاقاتوں تک محدود نہ رہے۔ دونوں حکومتوں کو ایسے قابلِ عمل اور مستقل اقدامات پر اتفاق کرنا چاہیے جو آئندہ اس قسم کے بحران کو جنم لینے سے روک سکیں۔

عوام، تاجر اور صارفین بار بار ایک ہی مسئلے کا شکار ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حکومتوں کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ وقتی آگ بجھانے کے بجائے اس کے اسباب کا خاتمہ کریں۔ غیر مجاز وصولیوں کا مستقل سدباب، بین الریاستی تجارت کے لیے واضح ضابطہ کار، مؤثر نگرانی اور ادارہ جاتی تعاون ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔ یہی راستہ تاجروں کا اعتماد بحال کرے گا، صارفین کو ریلیف دے گا اور جموں و کشمیر اور پنجاب کے درمیان دیرینہ معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنائے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

رادھا کرشنن نے کھرگے سمیت راجیہ سبھا کے لیے منتخب آٹھ ارکان کو دلایا حلف

Next Post

دکھتی رگ کو دبانا                

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

آوارہ کتوں کا بحران : اعداد و شمار سے آگے کی حقیقت

2025-10-30
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی :سیاسی جماعتیں لداخ سے کچھ سیکھیں

2025-10-29
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
اداریہ

نیتن یاہوکے وارنٹ گرفتار ی

2024-11-23
وادی میں گردوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے
رائے

وادی میں گردوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے

2023-02-25
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

دکھتی رگ کو دبانا                

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.