ایجنسیز
جموں؍۱۸جون
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ شاہ پور کنڈی منصوبہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں آبپاشی کی سہولیات اور زرعی ترقی کو فروغ دے کر ان علاقوں کی تقدیر بدلنے والا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ’’یہ بات واضح ہے کہ شاہ پور کنڈی منصوبہ بہتر آبپاشی اور زرعی ترقی کے ذریعے جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں انقلابی تبدیلی لائے گا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل علاقے کے عوام کی کئی دہائیوں پرانی خواہش کی تکمیل ہے۔
مرکزی وزیر نے لکھا کہ ضلع کٹھوعہ کی سرحد پر واقع شاہ پور کنڈی قومی منصوبہ ایک اہم داستان رکھتا ہے۔۱۹۶۰ کے معاہدۂ سندھ طاس کے بعد ہندوستان کے حصے میں تین دریا راوی، بیاس اور ستلج آئے تھے، جن میں دریائے راوی سب سے بڑا تھا۔۱۹۷۰ کی دہائی کے آخر میں دریائے راوی پر ایک قومی منصوبے کا تصور پیش کیا گیا تاکہ ہندوستان کے حصے کا پانی پاکستان میں بہنے کے بجائے ہندوستان کے اندر استعمال کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ۱۹۸۴ میں اس منصوبے کا سنگِ بنیاد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے رکھا تھا، لیکن چند ماہ بعد ان کے قتل کے بعد یہ منصوبہ پس منظر میں چلا گیا اور بعد کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے بھی اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں بعد، جب۲۰۱۴میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ جموں و کشمیر اور پنجاب کے چیف سیکریٹریوں کو اس عمل میں شامل کیا گیا، نئے دستاویزات تیار کیے گئے اور فروری۲۰۱۹میں جموں میں ایک عوامی جلسے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اس منصوبے کی بحالی کا اعلان کیا۔










