اوول//
محمد سراج تماشائیوں کی جانب دیکھتے ہوئے اپنا چہرہ اپنے ہاتھ سے چھپا چکے تھے اور ان سے کچھ دور کھڑے واشنگٹن سندر کے ہاتھ ان کے سر پر تھے۔
گیند اب بھی سراج کے ہاتھ میں تھی لیکن آغاز میں صرف وہ اور ان کے قریب موجود تماشائی ہی یہ جان پائے تھے کہ وہ باؤنڈری لائن عبور کر چکے ہیں۔
سراج نے ایک طویل سپیل کے بعد کچھ دیر کی بریک لے کر ایک گیند قبل ہی میدان میں قدم رکھا تھا اور ہیری بروک کی پُل شاٹ سیدھی ہاتھوں میں آ چکی تھی۔۔۔ لیکن پھر ان کا باؤنڈری لائن سے ٹکرانے والا ایک غلط قدم 19 رنز پر کھیلنے والے ہیری بروک کو کریز پر ایک نئی زندگی دینے کا باعث بن گیا۔
وہ اب تک انگلینڈ کے خلاف انڈیا کی اس پانچ روزہ سیریز میں وہ واحد بولر تھے جنھیں آرام نہ دیا گیا ہو، یا جو زخمی نہ ہوئے ہوں۔۔۔ کچھ موقعوں پر انھوں نے تن تنہا ہی اپنی ٹیم کو پار لگانے کا بیڑا اٹھایا تھا اور اس میچ کی پہلی اننگز میں وہ چار وکٹیں بھی حاصل کر چکے تھے۔
جیسے جیسے چوتھا دن گزرتا گیا، سراج کا ڈراپ کیچ مزید مہنگا ثابت ہونے لگا اور انڈیا کی گذشتہ تمام غلطیاں بھلا کر انڈین مداح سراج کی غلطی پر افسوس کرنے لگے۔ ہیری بروک نے تیز رفتاری سے سکور کو آگے بڑھایا اور صرف 98 گیندوں پر 111 رنز بنا کر انگلینڈ کو وننگ پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔
تاہم گذشتہ کئی ایشیائی ٹیموں کے بولرز کے برعکس سراج نے ہار نہیں مانی۔ وہ ایک کے بعد ایک سپیل کرواتے رہے، کئی بار بدقسمت رہے اور پھر جب پراسد کرشنا کے عمدہ سپیل کی صورت میں انڈیا کو چوتھے روز اہم بریک تھرو ملے، تو انڈیا کی امید ایک بار پھر بندھ گئی۔






