جمعرات, اکتوبر 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کیلئے پاکستان کو نوٹس

اسلام آباد کے اقدامات سے معاہدے کی دفعات اور اس کے نفاذ پر منفی اثر پڑا، اسی لئے مجبوراً یہ قدم اٹھایا گیا ہے:دہلی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2023-01-28
in اہم ترین
A A
سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کیلئے پاکستان کو نوٹس
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

سنہاکادہشت گردی کے خاتمے کا عزم

دہشت گردوں کے حامیوں کے دن گنے جا چکے ہیں:پربھات

سرینگر//(ویب ڈیسک)
بھارت نے ۱۹۶۰ کے سندھ آبی معاہدے میں ترامیم کے لیے پاکستان کو ایک نوٹس جاری کیا ہے۔
نئی دہلی کا دعوی ہے کہ اسلام آباد کے اقدامات سے معاہدے کی دفعات اور اس کے نفاذ پر منفی اثر پڑا، اسی لئے مجبوراً یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
بھارت کے ذرائع ابلاغ اور نیوزایجنسیوں نے مرکزی حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے ۔بھارت نے آبی تنازعے سے متعلق سن۱۹۶۰ کے سندھ طاس معاہدے میں ترامیم کے لیے پاکستان کو ایک نوٹس بھیجا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ نوٹس سندھ آبی معاہدے کے کمشنرز کے ذریعے پاکستان کو ۲۵ جنوری کے روز پہنچادیا گیا۔
بھارت اور پاکستان نے نو برس کی بات چیت کے بعد ستمبر سن ۱۹۶۰ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا ایک فریق عالمی بینک بھی ہے اور اس کے بھی اس معاہدے پر دستخط ہیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت نے معاہدے میں ترمیم کا نوٹس اس مقصد کے تحت جاری کیا ہے تاکہ پاکستان کو آئندہ ۹۰ دنوں کے اندر بین الحکومتی مذاکرات میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کو درست کیا جا سکے۔
بھارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس عمل کے ذریعے گزشتہ ۶۲ برسوں کے دوران جو سبق سیکھے گئے ہیں، اس کو بھی انڈس واٹر معاہدے میں شامل کر کے اسے اپ ڈیٹ کرنا ہے۔
دہلی کا یہ بھی الزام ہے بھارت کی جانب سے کوششوں کے باوجود پاکستان گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس کے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس پر بات چیت اور اس معاملے کو حل کرنے سے انکار کرتا رہا ہے، اس لیے بھی ترمیم کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
بھارت کا دعوی ہے کہ وہ ہند طاس معاہدے پر عمل کرنے کا حامی رہا ہے،’’تاہم پاکستان کے اقدامات نے سندھ آبی معاہدے کی دفعات اور ان کے نفاذ پر منفی اثر ڈالا ہے، اس لیے بھارت اس بات پر مجبور ہوا کہ وہ معاہدے میں ترمیم کیلئے ایک مناسب نوٹس جاری کرے‘‘۔
ان دریاؤں کو مشرقی اور مغربی دریا بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ دریائے راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں جن کے پانیوں پر بھارت کا حق ہے ۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ۲۰۱۵ میں بھارت کے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس پر اپنے تکنیکی اعتراضات کی جانچ کیلئے ایک غیر جانبدار ماہر کو طلب کرنے کی بات کہی تھی۔ تاہم بھارت کا دعوی ہے کہ سن۲۰۱۶ میں پاکستان نے یکطرفہ طور پر اس درخواست کو واپس لے لیا اور یہ تجویز پیش کی کہ ایک ثالثی عدالت اس کے اعتراضات پر فیصلہ کرے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے یہ یکطرفہ کارروائی تھی، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ اسی مناسبت سے بھارت نے بھی ایک الگ درخواست دی تھی کہ معاملہ کسی غیر جانبدار ماہر کے پاس بھیج دیا جائے۔
تو اہم بات یہ ہے کہ ایک ہی معاملے میں بیک وقت دو طرفہ عمل سے ایک دوسرے کے برعکس یا متضاد نتائج سامنے کا امکان ہے، جو قانون کی نظر میں درست نہیں ہے اور اس سے خود معاہدے کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
بھارت کا کہنا ہے ’’عالمی بینک نے سن ۲۰۱۶ میں خود اس بات کا اعتراف کیا تھا اور دو متوازی عمل کو ’روکنے‘ کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان سے ایک خوشگوار راستہ تلاش کرنے کی درخواست کی تھی۔‘‘
سندھ طاس معاہدے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا ’انڈس بیسن‘ کے چھ دریاؤں اور ان کی معاون ندیوں کا پانی کون ملک اور کیسے استعمال کرے گا۔ ان چھ میں سے تین دریا پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ باقی تین بھارت کے حصے میں آئے تھے۔
ان دریاؤں کو مشرقی اور مغربی دریا بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ دریائے راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں جن کے پانیوں پر بھارت کا حق ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں کا پانی بھی استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے اس پر بعض سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ بھارت کو ان دریاؤں پر بجلی گھر بنانے کی بھی اجازت ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ ان کے پانی کا بہاؤ ایک مقرر حد سے کم نہ ہونے پائے۔
کشن کنگا جہلم کا ہی ایک معاون دریا ہے جو پاکستان میں دریائے نیلم کے نام سے معروف ہے۔ بھارت نے اسی دریا پر لائن آف کنٹرول کے بالکل قریب ایک بجلی گھر بنایا ہے، جسے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کہتے ہیں اور اسی پر دونوں ملکوں کے خلاف شدید تنازعات ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

لداخ میں ٹرانسفر کیلئے منتقلی کیلئے ۱۵۶۹اسامیاں تخلیق

Next Post

اگلے۲۴گھنٹوں کے دوران موسم خشک رہنے کا امکان

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

سنہاکادہشت گردی کے خاتمے کا عزم

2026-10-22
وادی کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں موسلادھار بارش
اہم ترین

دہشت گردوں کے حامیوں کے دن گنے جا چکے ہیں:پربھات

2026-10-22
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

عمر عبداللہ کا موسمِ سرما کی تیاریوں کا جائزہ ‘بجلی شیڈول پر سختی سے عمل در آمد کی ہدایت

2026-10-22
سردیوں میں بجلی کی عدم دستیابی سے قمر واری و ملحقہ علاقوں کے لوگ پریشان
اہم ترین

کشمیر میں اس موسم سرما میں کم وولٹیج کا بحران دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ

2026-10-22
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

اُدھم پور میں مسافر بس کو حادثہ‘ خاتون اور۶سالہ بچی ہلاک 

2026-10-22
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

جموں کے ارنیا سیکٹر میں۸۰۴ گرام ہیروئن اور۱ء۱کلو افیون برآمد

2026-10-22
’فہد شاہ کے نیوز پورٹل پر اچھی حکمرانی
اہم ترین

روس میں زیرِ حراست  کشمیری نوجوان کی رہائی  کیلئے مرکز سے مداخلت کی اپیل 

2026-10-22
برفباری:۳۰؍اور ۳۱ جنوری کے امتحانات ملتوی
اہم ترین

بورڈ نے امتحانی عملے کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی

2026-10-22
Next Post
وادی میںشبانہ درجہ حرارت میں مزید گرواٹ

اگلے۲۴گھنٹوں کے دوران موسم خشک رہنے کا امکان

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.