کشمیر میں ابھی سردیوں نے پوری طرح دستک بھی نہیں دی ہے، لیکن محکمہ بجلی نے کٹوتی کا شیڈول جاری کرکے لوگوں کو آنے والے ایام کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔ بعض علاقوں میں آٹھ گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ موسم سرما کی اصل سختیاں شروع ہونے سے پہلے ہی بجلی کی فراہمی کا نظام دباؤ کا شکار ہوچکا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ جب درجہ حرارت میں مزید گراوٹ آئے گی، آبی بجلی کی پیداوار کم ہوگی اور گھروں، کاروباری اداروں اور دیگر شعبوں میں بجلی کی مانگ بڑھے گی تو حالات کس قدر سنگین ہوسکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کسی غیر معمولی پیش گوئی کی ضرورت نہیں، بلکہ گزشتہ برسوں کے تجربات اور حالیہ انتباہات ہی کافی ہیں۔
شمالی علاقائی بجلی کمیٹی نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق گزشتہ موسم سرما میں جموں و کشمیر کے بجلی نظام میں طلب تقریباً ۳۲۰۰ میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔ صبح اور شام کے اوقات میں حرارت حاصل کرنے کے لیے بجلی کے استعمال میں اضافے کے باعث نظام پر دباؤ بڑھا، جبکہ مقامی آبی بجلی کی پیداوار کم ہونے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ نتیجتاً وادی کشمیر کے کئی اہم بجلی مراکز پر برقی دباؤ مقررہ حد سے کہیں نیچے چلا گیا۔
کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں موسم سرما میں بھی بجلی کی مانگ گزشتہ سال کے برابر یا اس سے زیادہ رہ سکتی ہے، جبکہ آبی بجلی کی پیداوار کم رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو گزشتہ برس جیسے حالات دوبارہ پیدا ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب متعلقہ اداروں کو پہلے سے معلوم ہے کہ سردیوں میں بجلی کی طلب بڑھتی ہے، مقامی پیداوار گھٹتی ہے اور ترسیلی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے تو پھر ہر سال اس بحران کا سامنا کرنے کی نوبت کیوں آتی ہے؟ کیا یہ مسئلہ صرف قدرتی حالات کا نتیجہ ہے یا اس میں منصوبہ بندی کی خامیاں اور انتظامی غفلت بھی شامل ہیں؟
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو وادی کشمیر اور جموں صوبے کے سرد علاقوں میں موسم سرما کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنانے اور بجلی کی کٹوتی کے مقررہ اوقات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی۔ بلاشبہ یہ ہدایات اہم ہیں، کیونکہ غیر اعلانیہ کٹوتی اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ تاہم محض ہدایات جاری کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ان ہدایات کو عملی جامہ پہنانے اور اس امر کو یقینی بنانے کی ہے کہ متعلقہ محکمے موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ بجلی کا بحران صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا اثر تعلیم، صحت، تجارت، صنعت اور روزگار کے مختلف شعبوں پر پڑتا ہے۔ سردیوں میں بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، دکان داروں اور چھوٹے کاروباریوں کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بجلی پر انحصار کرنے والے اداروں کو اپنے کام جاری رکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مریضوں، بزرگوں اور ایسے گھرانوں کے لیے، جہاں حرارت کے متبادل ذرائع دستیاب نہیں، بجلی کی طویل کٹوتی محض زحمت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتی ہے۔ دیہی علاقوں اور دور دراز بستیوں میں اس کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں متبادل سہولتوں تک رسائی محدود ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر میں سردیوں کے دوران بجلی کی اضافی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیرونی ذرائع سے بجلی حاصل کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ لیکن اس عمل میں مالی وسائل، بجلی کی دستیابی اور ترسیلی نظام کی گنجائش جیسی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں۔ شمالی گرڈ سے مطلوبہ مقدار میں بجلی دستیاب نہ ہونے یا اضافی بجلی خریدنے کے لیے مالی وسائل ناکافی ہونے کی صورت میں حکومت کے لیے طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مالی وسائل محدود ہیں، لیکن یہ بھی درست ہے کہ موسم سرما کی آمد کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں۔ ہر سال ایک ہی موسم آتا ہے، طلب بڑھتی ہے اور مقامی آبی بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے ان حالات سے نمٹنے کی تیاری بھی پیشگی ہونی چاہیے۔
شمالی علاقائی بجلی کمیٹی نے بھی متعلقہ اداروں کو واضح طور پر کہا ہے کہ ترسیلی نظام کی ضروری مرمت نومبر کے اختتام سے پہلے مکمل کی جائے تاکہ دسمبر سے مارچ تک اہم ترسیلی لائنوں کو بند کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ نیو وانپوہ میں نصب برقی دباؤ کو متوازن رکھنے والے نظام کی دیکھ بھال کو بھی ترجیح دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ موسم سرما میں جزوی بجلی بندش کے بعد وادی کو دوبارہ بجلی فراہم کرنے کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان سے بچنے کے لیے ضروری آلات کی دستیابی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ہدایات ظاہر کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف بجلی کی مقدار کا نہیں، بلکہ ترسیل، نظام کے استحکام اور ہنگامی حالات میں بجلی بحال کرنے کی صلاحیت کا بھی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ موسم سرما کے لیے بجلی کی ضرورت کا حقیقت پسندانہ تخمینہ تیار کرے اور اس کے مطابق اضافی بجلی کی خریداری کے انتظامات بروقت مکمل کرے۔ دستیاب مالی وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ترجیحات متعین کی جائیں، اہم ترسیلی لائنوں اور بجلی مراکز کی مرمت مقررہ مدت میں مکمل کی جائے اور ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں کم برقی دباؤ کے باعث فراہمی متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہے۔ بجلی کی تقسیم میں شفافیت بھی ضروری ہے تاکہ صارفین کو معلوم ہو کہ ان کے علاقے میں کتنی دیر بجلی دستیاب رہے گی۔ اگر کسی ناگزیر وجہ سے مقررہ شیڈول میں تبدیلی کرنا پڑے تو لوگوں کو بروقت مطلع کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر ضروری خدمات کے لیے بجلی کی فراہمی کے خصوصی انتظامات کیے جانے چاہئیں۔
تاہم ساری ذمہ داری حکومت اور محکمہ بجلی پر ڈال کر عام صارفین کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بجلی کا منصفانہ اور محتاط استعمال بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، بجلی استعمال کرنے والے آلات کا سوچ سمجھ کر استعمال کرنا اور مقررہ لوڈ سے تجاوز نہ کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے مجموعی طلب کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ البتہ عوام سے کفایت شعاری کی اپیل اسی وقت مؤثر ہوگی جب حکومت خود بجلی کی فراہمی میں نظم و ضبط، شفافیت اور جواب دہی کا مظاہرہ کرے گی۔ صارفین سے قربانی مانگنے کے ساتھ ان کے جائز مطالبات کو پورا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔




