واشنگٹن، 22 اکتوبر (یواین آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع پر جاری نازک بات چیت کے دوران امریکہ روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے یا کشیدگی بڑھانے والے دیگر اقدامات سے گریز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق کسی معاہدے کے اتنے قریب پہلے کبھی نہیں تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ جب فریقین کسی معاہدے کے قریب ہوں اور مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں ہوں تو پابندیاں عائد نہیں کی جاتیں۔
انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف مزید سخت اقدامات کے مطالبات اس لیے قبول نہیں کیے گئے تاکہ مذاکراتی عمل میں رکاوٹ نہ آئے اور امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کی رہائی خطرے میں نہ پڑے۔ ہبارڈ کو روس میں یوکرینی فوجیوں میں شامل ہوکر روسی فوج کے خلاف لڑنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
بعد میں امریکی فریق کی بار بار درخواست پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انسانی بنیادوں پر ان کی رہائی کی منظوری دی تھی۔ ٹرمپ نے یوکرین کو متاثر کرنے والی اسٹارلنک اور ‘اسٹارشیلڈ پر حالیہ پابندیوں میں اپنے کسی بھی کردار سے انکار کیا۔ یہ پابندیاں کس کے حکم پر لگائی گئیں، اس سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں معلوم نہیں، تاہم ان کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ان پابندیوں سے یوکرین کی ڈرون کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور کچھ مشن منسوخ کرنے پڑے۔





