واشنگٹن، 21 اکتوبر (یو این آئی) امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ شکست کے خدشے کے درمیان ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے معاونین اور انتظامیہ کے عہدیدار اپنے مستقبل کے بارے میں غور کررہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ شکست کی صورت میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
سی این این کے مطابق، عہدیداروں میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی بڑی شکست کے بعد ٹرمپ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے لیے وسیع پیمانے پر عہدوں میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں۔
درجنوں معاونین اور سرکاری عہدیدار اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ صدر کے دورِ اقتدار کے آخری مرحلے، جب ان کے اختیارات اور سیاسی اثر و رسوخ محدود ہونے لگتے ہیں، سے پہلے ہی انتظامیہ چھوڑ دی جائے۔
حالیہ انتخابی جائزوں کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کی مضبوط پوزیشن میں ہے، جبکہ سینیٹ میں بھی اسے اکثریت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ اور محصولات سمیت ٹرمپ کی پالیسیوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے بحران کے تناظر میں تنقید کا سامنا ہے، جس کے باعث ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنما بھی ان سے دور ہوتے جارہے ہیں۔تاہم، عہدیداروں کو توقع ہے کہ انتخابی نقصان کی صورت میں ٹرمپ اپنی انتظامیہ کے ارکان کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔
ٹرمپ کے کئی عہدیداروں، مشیروں اور قریبی اتحادیوں نے موجودہ ماحول کو ”اقتدار کے لیے جوڑ توڑ اور پہلے ہی سے ایک دوسرے پر الزام ڈالنے کی زہریلی آمیزش” قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے ایک مشیر نے خبردار کیا کہ اگر پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں شکست کھا گئی تو کسی کا عہدہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
مشیر نے سی این این سے کہا، ”اگر ہم ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں ہار گئے تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہر شخص نشانے پر ہوگا۔”
ٹرمپ اپنے دونوں ادوارِ صدارت میں بارہا وزرا اور معاونین کو عہدوں سے برطرف کرچکے ہیں، حتیٰ کہ ان افراد کو بھی جنہوں نے ان کے ساتھ وفاداری برقرار رکھی۔
اپنے دوسرے دورِ صدارت میں وہ کرسٹی نوم، پام بونڈی اور لوری شاویز ڈیریمر سمیت کئی عہدیداروں کو برطرف کرچکے ہیں۔ ان کے علاوہ یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو بھی عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز بھی ان سینئر عہدیداروں میں شامل ہیں جن کے مستقبل پر ٹرمپ کی تحریک ‘میک امریکہ گریٹ اگین’ (میگا) سے وابستہ حلقوں میں بحث ہورہی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ہیگسیتھ کو تنقید کا سامنا ہے، جبکہ وائلز کی بیٹی کیٹی وائلز کی لابنگ فرم ‘کانٹینینٹل اسٹریٹیجی’ میں ملازمت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس فرم نے بوسنیا کی سرب اکثریتی اکائی ریپبلیکا سرپسکا کی نمائندگی کی تھی، جس سے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے عہدیداروں کو عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد برطرف کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔ مثال کے طور پر، پریس سکریٹری کیٹی زکریا کو عہدہ سنبھالنے کے محض پانچ دن بعد برطرف کردیا گیا تھا۔
رک گرینیل کا عہدہ بھی خطرے میں سمجھا جارہا ہے۔ وہ ٹرمپ کی قریبی اتحادی الینا ہبا ملڈن کے ساتھ تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہبا ملڈن نے ان پر کینیڈی سینٹر کے لیے مختص لاکھوں ڈالر کی مبینہ خرد برد کا الزام لگایا ہے۔
عہدیدار جہاں اپنے عہدے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، وہیں ساتھیوں پر الزام ڈالنے کی کشمکش نے انتظامیہ کے اندر کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ ٹرمپ کے ایک اتحادی نے سی این این سے کہا کہ انہوں نے جدید دور میں اس سطح کی اندرونی رسہ کشی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
اتحادی نے کہا، ”وائٹ ہاؤس میں جدید دور کی کسی بھی دوسری صورت حال کے مقابلے میں یہ زیادہ بے رحم ہے۔ یہاں آپ کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔”





