سرینگر؍۲۲؍ اکتوبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پوری دنیا ایک نئے عالمی نظام کی تلاش میں ہے، ایسے میں کچھ لوگ بھارت میں انتشار کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
جمعرات کو این ڈی ٹی وی ورلڈ سمٹ۲۰۲۶ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ کانگریس آخر کب تک اپنے ایک ’’ناکام پروڈکٹ‘‘ کو دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کرتی رہے گی۔
اپنے خطاب میں مودی نے کانگریس کو ایک ایسی ’’طفیلی جماعت‘‘ قرار دیا جو دوسروں کو آگے بڑھنے نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے محرومی کے بعد کانگریس کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار بننے کے بجائے پورے نظام کو نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’جب پوری دنیا ایک نئے نظام کی تلاش میں ہے، کچھ لوگ بھارت میں انتشار کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ آج جب دنیا میں اتنی بے چینی اور افراتفری ہے، تو بھارت کی ایک مضبوط تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جانی چاہیے، لیکن ان لوگوں کی دلچسپی صرف ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ہے۔ یہ لوگ بیرونِ ملک جا کر بھارت کو بدنام کرتے ہیں اور غیر ملکیوں سے مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘
اگرچہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں راہل گاندھی کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم کانگریس کی جانب سے اپنے رہنما کو بار بار آگے لانے سے متعلق ان کے تبصرے کو راہل گاندھی پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔
مودی نے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس اپنے ناکام پروڈکٹ کو لانچ کرنے کے لیے کب تک ملک کو داؤ پر لگاتی رہے گی۔ سری ہری کوٹا میں بھی ایک سال کے دوران اتنے لانچ نہیں ہوتے، جتنی ناکام کوششیں کانگریس اپنے رہنما کو آگے لانے کے لیے کرتی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ کانگریس خود کو نقصان پہنچانے کے لیے جو چاہے کرے، لیکن ایک خاندان کو ناکامی کے داغ سے بچانے کے لیے اب وہ بھارت کی کامیابیوں، عظمت اور ترقی کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ مودی کے بقول، اقتدار سے محرومی کے بعد کانگریس کی مایوسی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنی ہی بنیادوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ نہرو۔گاندھی خاندان اب خود کانگریس کے لیے بوجھ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے کئی سینئر رہنما بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں اور نجی گفتگو میں اقتدار میں موجود افراد کے سامنے اس کا اظہار کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے کام کاج کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے الزام لگایا کہ حکومت کی جمہوری انداز میں مخالفت کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے باصلاحیت نوجوان ارکان پارلیمنٹ حکومت پر تنقید کرنا چاہتے ہیں، لیکن کانگریس ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیتی تاکہ دوسرے ارکان کو بولنے کا موقع نہ ملے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس ایسا اس لیے کرتی ہے تاکہ صرف ایک ہی شخص خبروں اور سیاسی منظرنامے میں نمایاں رہے۔
۔۔۔۔۔ویب ڈیسک)










