دوشنبے؍۲۰؍اکتوبر
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کو کہا کہ دہشت گردی کے پورے نظام کو مضبوط عزم اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے، ان کی حمایت کرنے یا انہیں پناہ دینے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی امن اور ترقی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف معصوم لوگوں کی جانوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ سرمایہ کاری اور تجارت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
سنگھ نے مزید کہا کہ دہشت گردی معاشرے میں انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے اور نوجوانوں کو ان مواقع سے محروم کر دیتی ہے جن کے وہ حق دار ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ راجناتھ سنگھ جب اجلاس سے خطاب کر رہے تھے تو پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی وہاں موجود تھے۔
وزیر دفاع دو روزہ سرکاری دورے پر تاجکستان میں ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
راجناتھ سنگھ نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے لیے کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے کہا، ’’دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے، ان کی حمایت کرنے یا انہیں محفوظ پناہ گاہیں دینے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے پورے نظام کو مضبوط عزم اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ختم کیا جانا چاہیے۔‘‘
اس سے قبل۱۵؍اکتوبر کو نئی دہلی میں راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان سے شروع ہونے والی مستقبل کی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ۲۰۱۴سے اب تک بیشتر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی مدت ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے اور وہ ہندوستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔
ایس سی او کے رکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے۲۰۲۶ سے۲۰۳۰ تک کے لیے کثیرالجہتی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے پروگرام پر عمل درآمد سے متعلق لائحۂ عمل کی منظوری کے لیے ہندوستان کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔
سنگھ نے کہا، ’’ہندوستان کا ماننا ہے کہ ہماری اقتصادی شراکت داری جامع ہونے کے ساتھ ساتھ تمام رکن ممالک کے لیے فائدہ مند بھی ہونی چاہیے۔ ہمیں مضبوط اور پائیدار سپلائی چین قائم کرنے، تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔‘‘
ایس سی او کے رکن ممالک کے کثیرالجہتی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے پروگرام کا مقصد شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مستحکم حالات کے تحت شعبہ جاتی تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں جامع تعاون کو وسعت دینا ہے۔
اس پروگرام کا ایک اہم مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاری کے تعاون کو وسعت دینا بھی ہے، تاکہ تنظیم کے رکن ممالک کے عوام کی خوشحالی کو بہتر بنایا جا سکے۔
۲۵ فروری۲۰۲۶کو ایس سی او کے رکن ممالک کے ماہرین کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں رکن ممالک کے کثیرالجہتی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے ۲۰۲۶سے۲۰۳۰تک کے مجوزہ لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستان نے بشکیک میں کیے گئے ان فیصلوں کا خیرمقدم کیا ہے جن کے تحت تاشقند میں قائم یونیورسل سینٹر اور دوشنبے میں قائم انسدادِ منشیات مرکز کو ایس سی او کے مستقل اداروں کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










