سرینگر؍۱۹؍اکتوبر
بھارت نے پیر کے روز جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قرارداد کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے پاکستان کو اپنے ’’متعصبانہ ایجنڈے‘‘ کی تکمیل کے لیے خود کو ’’غلط استعمال‘‘ کرنے کی اجازت دی ہے۔
نئی دہلی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی جانب سے بھارت کے حوالے سے کیے گئے تبصرے ’’بدنیتی پر مبنی، جانبدارانہ اور جھوٹے ہیں، جنہیں پاکستان نے منظم انداز میں پیش کروایا ہے۔‘‘
وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے کہا، ’’ہم۱۷؍ اور۱۸؍ اکتوبر کو بغداد میں منعقدہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں میں بھارت مخالف حوالوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں۔‘‘
وزارت نے کہا، ’’بھارت کے حوالے سے کیے گئے تبصرے بدنیتی پر مبنی، جانبدارانہ اور جھوٹے ہیں اور انہیں پاکستان نے منظم انداز میں پیش کروایا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر پاکستان کو اپنے متعصبانہ ایجنڈے کے لیے تنظیم کا غلط استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔‘‘
وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت کے مکمل داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا او آئی سی کو ’’سرے سے کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’مرکزی زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔ سیاسی محرکات پر مبنی پروپیگنڈا اس حقیقت کو کبھی تبدیل نہیں کر سکتا۔‘‘
وزارت نے مزید کہا، ’’دفعہ۳۷۰کی منسوخی کے بعد گزشتہ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں نمایاں اقتصادی ترقی ہوئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سیاحت اور رابطے کی سہولتوں کے ذریعے براہِ راست عوام کو فوائد حاصل ہوئے ہیں۔‘‘
وزارت خارجہ کے مطابق، یہ صورتحال پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں موجود حالات کے بالکل برعکس ہے، جہاں اسلام آباد نے پُرامن شہری مظاہرین کے خلاف تشدد، جبر اور سفاکیت کا راستہ اختیار کیا ہے اور خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کو ہلاک کیا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی بھی انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’جموں و کشمیر سے متعلق صرف دو معاملات اب بھی حل طلب ہیں: پاکستان کا ان علاقوں سے انخلا جو اس کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں ہیں، اور سرحد پار دہشت گردی کی مسلسل حمایت بند کرنا۔‘‘
وزارت خارجہ نے او آئی سی کی قراردادوں میں بھارت کے خلاف دیگر ’’من گھڑت اور مخالفانہ حوالوں‘‘، بشمول اسلاموفوبیا سے متعلق الزامات، کو پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی توجہ اپنے ہی ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور فرقہ وارانہ تشدد کے بدترین ریکارڈ سے ہٹانے کی ایک ’’مایوس کن کوشش‘‘ قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا، ’’او آئی سی کی جانب سے پاکستان کے پھیلائے گئے واضح طور پر بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے اور بیانیے کی بار بار تائید اس تنظیم کی ساکھ اور دیانت داری پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے رکن ممالک بہتر طرزِ عمل اختیار کریں گے اور اس تنظیم میں اصلاحات لائیں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










