لیہ؍۱۹؍اکتوبر
کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے شریک چیئرمین سجاد کرگیلی نے پیر کے روز لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں (ایل اے ایچ ڈی سی) کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ تبدیلیاں مقامی فریقوں سے مشاورت کے بغیر متعارف کرائی گئی ہیں۔
کرگیلی نے کہا کہ اس فیصلے سے لداخ کے آئینی تحفظات اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے جاری مذاکرات کے تئیں مرکزی حکومت کی سنجیدگی پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ مرکز نے۱۶؍ اکتوبر کو لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں (ترمیمی ضابطہ) کے ذریعے ان کونسلوں سے متعلق قانونی دفعات میں تبدیلی کی تھی۔
ہندوستان کے سرکاری گزٹ میں شائع شدہ ترمیم شدہ ضابطے کے تحت ہر کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد لداخ انتظامیہ طے کرے گی، جو کم از کم سات اور زیادہ سے زیادہ 24 ہوگی۔ انتظامیہ کو خواتین اور نمائندگی سے محروم طبقات میں سے چار تک ارکان نامزد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، تاہم یہ نامزدگیاں مقررہ حد کے تابع ہوں گی۔
ترمیم کے تحت لداخ کے رکن پارلیمنٹ کو کونسل کا عہدے کی بنا پر رکن بنایا گیا ہے۔ کونسلوں کے انتخابات اب مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ریاستی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہوں گے، جبکہ انتخابی تنازعات کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں اٹھایا جا سکے گا۔
کے ڈی اے کے رہنما سجاد کرگیلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا، ’’ایک ایسے وقت میں جب لداخ کے لیے آئینی حیثیت اور خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے لیے مضبوط تحفظات سمیت مختلف مطالبات پر کسی حل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، حکومت کی جانب سے مقامی لوگوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بغیر ان کونسلوں کی تشکیل، اختیارات اور کام کاج میں بڑی تبدیلیاں کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں براہ راست ان اداروں کو متاثر کرتی ہیں جن کے ذریعے مقامی سطح پر خود حکمرانی کا نظام چلایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، جب لداخ کے سیاسی اور آئینی انتظام کے مستقبل پر بات چیت جاری ہو تو متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
کے ڈی اے، لیہ اپیکس باڈی کے ساتھ مل کر مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہا ہے۔ ان مطالبات میں آئینی تحفظات کے علاوہ لداخ کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح پر قانون ساز اسمبلی اور ایسا بااختیار حکومتی ادارہ قائم کرنا بھی شامل ہے جس کے پاس بامعنی قانون ساز، انتظامی، مالیاتی اور بجٹ سے متعلق اختیارات ہوں۔
ان مطالبات کے حوالے سے دونوں تنظیمیں۲۰۲۱ سے مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کر چکی ہیں۔
کرگیلی نے کہا، ’’حکومت دراصل اس ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیاں کر رہی ہے جس پر مذاکرات کے ذریعے فیصلہ ہونا ہے، جبکہ اس اقدام سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کو کونسلوں کی تشکیل اور کام کاج پر مزید اختیار حاصل ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس سے جاری مذاکرات کے تئیں حکومت کی سنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا بالآخر طے پانے والا حل لداخ کو حقیقی خودمختاری فراہم کرے گا یا اس کے نمائندہ اداروں کو انتظامیہ کی صوابدید کا پابند بنا کر رکھ دے گا۔‘‘
۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )










