نئی دہلی؍۹اکتوبر
وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بار پھر واضح کیا کہ ہندوستان کا مستقل موقف رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان۱۹۷۲ میں شملہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے ہندوستان و پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) کی افادیت ختم ہوچکی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے حالیہ دورۂ پاکستان اور اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے دفتر کے دورے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دیا۔
جیسوال نے کہا، ’’ہمارا مستقل موقف رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شملہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یو این ایم او جی آئی پی کی افادیت ختم ہوچکی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شملہ معاہدے پر۱۹۷۲ میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو متاثر کرنے والے تنازعات اور محاذ آرائی کو ختم کرنے، دوستانہ اور پُرامن تعلقات کو فروغ دینے اور برصغیر میں دیرپا امن قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ وہ اپنے وسائل اور توانائیاں عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے اہم مقاصد کے حصول پر صرف کریں گے۔
معاہدے کے مطابق، ہندوستان اور پاکستان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس حال ہی میں سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ انہوں نے۶ اکتوبر کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے دفتر کا دورہ کیا اور وہاں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب بھی کیا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، گوتریس نے یو این ایم او جی آئی پی کو ایک منفرد اور طویل عرصے سے سرگرم مشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن انتہائی حساس سیاسی ماحول میں کام کرتا ہے اور اسے ایک مشکل ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
انہوں نے مشن کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کی لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں بھی ان کی وابستگی واضح طور پر سامنے آئی تھی، تاہم اس مشن کو درپیش چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ (ایجنسیاں)










