سرینگر؍۹؍اکتوبر
سوپور کے سمپورہ علاقے میں جمعرات کی شام بجلی کے شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کے نتیجے میں سیب ذخیرہ کرنے کا ایک گودام جل کر خاکستر ہوگیا، جس سے میوہ باغ کے مالک کو بھاری نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق، تیز ہواؤں اور شدید بارش کے درمیان پیش آئے اس واقعے میں کاشتکار کے مکان کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا۔
ایک مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق، آگ جمعرات کی دیر شام گودام میں لگی، جہاں تازہ توڑے گئے سیب اور پیکنگ کے ڈبے رکھے گئے تھے۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے گودام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حکام نے بتایا کہ مقامی لوگوں اور پولیس اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم اس وقت تک سیب ذخیرہ کرنے کا یونٹ جل چکا تھا۔
متاثرہ گودام میوہ کاشتکار منظور احمد کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔ واقعے سے شدید صدمے میں مبتلا منظور احمد نے کہا کہ آگ میں ان کی سال بھر کی محنت تباہ ہوگئی ہے اور وہ رات بھر سو نہیں سکے۔
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ روز سے ہمارے لیے انتہائی مشکل وقت ہے۔ میری پورے سال کی محنت آگ میں جل کر تباہ ہوگئی۔ میں پوری رات سو نہیں سکا۔ نقصان بہت زیادہ ہوا ہے اور میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ میری مدد کی جائے۔‘‘
دریں اثنا، مقامی لوگوں نے وزیر زراعت جاوید احمد ڈار اور سوپور کے رکن اسمبلی ارشاد رسول کار سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے میں مداخلت کریں اور متاثرہ کاشتکار کو مناسب مالی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔
اس دوران ضلع رام بن کی کھڑی تحصیل کے دور افتادہ علاقے ماہو میں جمعہ کی سہ پہر ایک بھیانک آتشزدگی کے واقعے میں مدرسہ مسیح العلوم کی دو منزلہ عمارت جل کر خاکستر ہوگئی۔ تاہم، اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی باشندوں کے مطابق، آگ سہ پہر تقریباً۳ بج کر۳۰ منٹ پر لگی، جس کی وجہ بجلی کا شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی مردوں اور خواتین نے آگ بجھانے کی کوششیں شروع کردیں۔ پولیس پوسٹ ماہو کے اہلکاروں نے انچارج فلیل سنگھ کی قیادت میں کارروائی میں حصہ لیا، جبکہ فوج کے جوانوں اور کھڑی سے تعلق رکھنے والے فوری ردعمل ٹیم (کیو آر ٹی) کے رضاکاروں نے بھی آگ پر قابو پانے اور اسے قریبی رہائشی مکانات تک پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔
ماہو کھڑی تحصیل کا ایک دور افتادہ علاقہ ہے، جہاں مقامی سطح پر آگ بجھانے کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد بانہال سے فائر ٹینڈر روانہ کیا گیا، تاہم اس کے جائے وقوعہ پر پہنچنے تک مدرسے کی پوری عمارت جل کر راکھ ہوچکی تھی۔
واقعے کے بعد علاقے میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔










