ممبئی، 5 ستمبر (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اپنے ایف ٹی پی مینیجرز کو ہدایت دے گا کہ اگلے ’فیوچر ٹورز پروگرام‘ (ایف ٹی پی) کی منصوبہ بندی اس طرح کی جائے کہ کھلاڑیوں کو خاص طور پر جنوبی افریقہ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا (ایس ای این اے) کے دوروں پر مقامی حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
ایف ٹی پی سے متعلق ورکشاپ 22 اور 23 ستمبر کو دبئی میں ہوگی، جس میں تمام کرکٹ بورڈز کی آپریشن ٹیمیں شرکت کریں گی۔ بی سی سی آئی بھی اپنی ٹیم بھیجے گا، جہاں 2027 سے 2031 کے مرحلے کے لیے بین الاقوامی میچوں کے شیڈول پر تبادلہ خیال ہوگا۔
بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سائکیا نے ہندوستانی ٹیم کے جائزہ اجلاس کے بعد کہا کہ سال میں بہت زیادہ میچ ہونے کے باعث اگلے ایف ٹی پی میں خاص اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو مناسب آرام دینے کے ساتھ بڑی سینا سیریز سے قبل متعلقہ حالات سے ہم آہنگ ہونے یا پریکٹس میچ کھیلنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔
اگلے ایف ٹی پی میں شیڈول تیار کرتے وقت پہلے سے طے شدہ دو طرفہ سیریز اور آئی سی سی ٹورنامنٹس کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہندوستان 2028 کے آغاز میں انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ کھیلے گا اور اسی سال کے آخر میں آسٹریلیا کا دورہ کرے گا۔ اس کے بعد 2029 میں انگلینڈ اور 2031 میں آسٹریلیا کی میزبانی کرے گا۔
اس دوران 2028 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ٹی-20 عالمی کپ، 2029 میں ہندوستان میں چیمپئنز ٹرافی، 2030 میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ میں ٹی-20 عالمی کپ اور 2031 میں ہندوستان و بنگلہ دیش میں ون ڈے عالمی کپ بھی منعقد ہوگا۔ اس کے علاوہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تحت جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے دورے اور سری لنکا سمیت دیگر ٹیموں کی میزبانی بھی کرنی ہوگی۔
دریں اثنا، کرک بز کے مطابق اگلے بین الاقوامی کیلنڈر میں کثیر ملکی مقابلوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کرکٹ بورڈز کے درمیان یہ سوچ بڑھ رہی ہے کہ دو طرفہ کرکٹ کی مقبولیت اور معاشی افادیت کم ہورہی ہے، جبکہ کثیر ملکی مقابلوں سے زیادہ مالی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
ٹرائی سیریز اور چار ٹیموں کی سیریز کا رجحان تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ فی الحال نمیبیا میں ٹی-20 ٹرائی سیریز جاری ہے، جس میں میزبان کے علاوہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے شامل ہیں۔ 2019 کے عالمی کپ کے بعد صرف ایک ون ڈے ٹرائی سیریز ہوئی ہے، جس میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور پاکستان شامل تھے۔







