Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document
سنڈے کالم

علیحدگی پسندوں پر حملہ اور پنڈتوں کی وطن واپسی 

ہارون رشید 


بیرون وادی کشمیری علیحدگی پسندوں پر ایک اور حملہ ہوا ہے۔پہلے محمد یاسین ملک ‘ پھر سید علی شاہ گیلانی اور اب میرواعظ عمر فاروق پر کشمیری پنڈت گروپ نے حملہ اور ان کیخلاف نا شائستہ زبان کا استعمال کیا ۔کچھ عرصے سے بیرون وادی علیحدگی پسندوں پر جس تواتر اور منظم طریقے سے حملے ہو رہے ہیں ان کے مقاصد کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن شاید اس کا خمیازہ‘ اس کی سزا اُن عام کشمیری پنڈتوں کو مل سکتی ہے جو اپنے واطن واپس آنے کی آرزو رکھتے ہیں ۔۔۔لیکن ان کی وطن واپسی کی راہ میں اور باتوں کے علاوہ علیحدگی پسندوں پر ہورہے یہ منظم حملے بھی رکاوٹ کے طور حائل ہو سکتے ہیں ۔
مزید کچھ کہنے سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری بن جاتا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کشمیری مسلمانوں کی حمایت اور تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے ۔ ریاستی اور ہندوستان کی حکومتیں چاہیں لاکھ کوشش کریں ‘ یہ کوششیں اس وقت تک بار ووآور ثابت نہیں ہو سکتی ہیں جب تک نہ ایک عام کشمیری مسلمانوں اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کا دل سے استقبال کرنے کیلئے تیار نہیں ہو جائے ۔ایسا تب ہی ہو سکتا ہے جب دونوں طبقوں میں آئی خلیج کو کم کرکے بد اعتماد کی فضا ختم کی جاتی ہے ۔میرواعظ عمر فاروق کے ساتھ چندی گڑھ میں جو کچھ بھی ہوا یقیناًاس سے دونوں طبقوں میں موجود بد اعتماد ی کی فضاء کم نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو جائیگا ۔ایک عام کشمیری پنڈت کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ‘جو پنڈت گروپ ان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی ان حرکتوں کا سب سے منفی اثر خود اسی طبقے پر پڑ رہا ہے ۔
علیحدگی پسندوں کے مختلف گروپوں میں کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کیلئے سب سے زیادہ سرگرم میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس رہی ہے ۔حریت کانفرنس نے اپنے ایک ذمہ دار کو کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کی کوششوں کیلئے وقف کر دیا تھا ۔گرچہ ان کوششوں کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا لیکن ان سے عام کشمیری پنڈتوں کو یہ پیغام ضرور مل گیا کہ کشمیر جتنا کشمیری مسلمانوں کا ہے‘ اتنا ہی کشمیری پنڈتوں کا بھی ہے اور ان کے بغیر وادی نامکمل ہے ۔اسی دھڑے کے سربراہ پر حملہ کر کے کشمیری پنڈتوں کی ترجمانی کے دعویدار اپنی کمیونٹی کے مفادات کو کیسا تحفظ فراہم کررہے ہیں ؟اس کا جواب ان سے مانگا جانا چاہیے۔
گزشتہ ۲۲ برسوں سے کشمیری پنڈتوں کے ان’ لیڈروں‘ نے کشمیری مسلم دشمنی کا جو مظاہرہ کیا ہے اس نے دونوں طبقوں کو قریب لانے کے بجائے انہیں مزید دور کر دیا ہے ۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے چندی گڑھ میں میرواعظ عمر فاروق پر کشمیری پنڈتوں کے حملے کو یہ کہہ کر جواز بخشا کہ علیحدگی پسندوں کی سیاست اور پالیسیوں کے چلتے ایسا ہو نا ہی تھا ۔وزیر اعلیٰ کا یہ بیان نہ صرف غیرضروری تھا بلکہ خود کشمیر کے حوالے سے ان کے موقف سے متصادم بھی ۔وزیر اعلیٰ بھی کشمیر کو ایک بین لاقوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل پر زور دیتے آئے ہیں اور علیحدگی پسند بھی اس کا حل چاہتے ہیں ۔ہم یہاں وزیر اعلیٰ کو بیچ میں لانا نہیں چاہتے ہیں لیکن حقیقت ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی ترجمانی کا دعویٰ کرنے والے نہ صرف علیحدگی پسندوں کیخلاف ہیں بلکہ انہوں نے ایک عام کشمیری مسلمانوں کیخلاف بھی جنگ کا اعلان کر رکھا ہے ۔آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (افسپا)میں ترمیم یا اس کی منسوخی کیخلاف جس طرح کشمیری پنڈت گروپوں نے احتجاج اور مظاہرہ کیا وہ اس کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔افسپا سے مشکلات ‘ تکالیف اور مصائب کا سامنا جنگجوؤں اور علیحدگی پسندوں سے کہیں زیادہ عام کشمیری مسلمان کو کرنا پڑرہا ہے ۔ اگر اس ایکٹ کو منسوخ کیا جاتا ہے تو ایک عام کشمیری مسلمان اس سے راحت محسوس کریگا ‘ لیکن کشمیری پنڈت گروپوں نے اس کیخلاف بھی آواز اٹھائی ۔
بیرون وادی علیحدگی پسندوں پر ہو رہے حملوں کے پیچھے ایک مقصد ہے اور کشمیری پنڈ گروپوں کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔مقصد یہ ہے کہ دنیا پر یہ واضح کیا جائے کہ کشمیر کے سارے لوگ علیحدپسندوں کے حامی نہیں ہیں ‘ سارے لوگ ہندوستان کیخلاف بھی نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو علیحدگی پسندی اور علیحدگی پسندوں کیخلاف ہیں ۔دوسرے الفاظ میں کشمیری پنڈت گروپوں کو علیحدگی پسندوں کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے اور وہ خوشی سے اپنے ذاتی اغراض و مفادات کی خاطر استعمال ہو رہے ہیں ۔لیکن قیمت ان عام کشمیری پنڈتوں کو چکانی پڑ سکتی ہے جنہیں جب بھی موقع ملتا ہے اپنے وطن کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے کشمیر آجاتے ہیں ۔جو ایک بار پھر اپنے سکھ اور دکھ مسلمان بھائیوں کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں ۔لیکن ایسا ہو نا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے جب تک کشمیری پنڈت گروپ کشمیری مسلمان مخالف رویہ اور طرز عمل تبدیل نہ کریں ۔

 

Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail