Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document
افضل گورو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناانصافی کا مجرم

علیحدگی پسند کیمپ سے وابستہ لیڈران پہلے ہی اس تعلق سے اپنا نظریہ اور ممکنہ اپروچ کو دوٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں۔ اس کیمپ کا یہ ماننا ہے کہ پھانسی د ی گئی تو کشمیر میں آگ کے شعلے بھڑک اُٹھ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا بھی یہی خیال ہے۔ اپوزیشن جماعت پی ڈی پی کی قیادت بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکی ہے۔ البتہ پردیش کانگریس کی لیڈر شپ خاموش ہے، اس کی خاموشی مصلحتاً نہیں بلکہ ایک سیاسی مجبوری ہے کیونکہ قومی سطح کی پارٹی ہونے کے ناطے ریاسست میں اس کی حیثیت ’’ہز ماسٹرس وائس‘‘ سے بھی گئی گذری ہے۔ 


پارلیمنٹ حملے میں سزا یا فتہ افضل گورو کو پھانسی نہ دیئے جانے کی وکالت کر کے ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحیح سمت میں بروقت پہل کی ہے۔ اگر چہ کچھ حلقے یہ اندیشہ ظاہر کر رہے تھے کہ مقبول بٹ کو تختہ دار پر لٹکانے کی سمت میں عمر کے والد نے انتہائی عجلت کے ساتھ فائل پر لفظ’’لٹکادو‘‘ پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر کے جو تباہ کن پہل کی تھی کہیں بیٹا بھی اُس نقش پا کو اپنا راہنما سمجھنے کی غلطی نہ کر جائے۔ بہرحال وزیراعلیٰ نے پھانسی دینے کی مخالفت میں جو دلیل پیش کی ہے و ہ زمینی حقیقت پر مبنی ہے اس میں وزن ہے اور جواب بھی۔ 
علیحدگی پسند کیمپ سے وابستہ لیڈران پہلے ہی اس تعلق سے اپنا نظریہ اور ممکنہ اپروچ کو دوٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں۔ اس کیمپ کا یہ ماننا ہے کہ پھانسی د ی گئی تو کشمیر میں آگ کے شعلے بھڑک اُٹھ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا بھی یہی خیال ہے۔ اپوزیشن جماعت پی ڈی پی کی قیادت بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکی ہے۔ البتہ پردیش کانگریس کی لیڈر شپ خاموش ہے، اس کی خاموشی مصلحتاً نہیں بلکہ ایک سیاسی مجبوری ہے کیونکہ قومی سطح کی پارٹی ہونے کے ناطے ریاسست میں اس کی حیثیت ’’ہز ماسٹرس وائس‘‘ سے بھی گئی گذری ہے۔ 
کشمیر کے مخصوص سیاسی تناظر، حالات باالخصوص کمزور اور ناتوان امن کا تقاضہ اور دانشمندی یہی ہے کہ کشمیر میں امن کے تحفظ اور مفاہمت کیلئے فضا ساز گار بنانے کیلئے کوئی ایسا قدم نہ اُٹھایا جائے جس سے ان دونوں کو کوئی خطرہ لاحق ہو جائے۔ اس ضمن میں یہ بات دہلی کو خاص طور سے ذہن نشین رکھنی چاہے کہ کشمیر کے اندر امن اور مفاہمت کی خواہش کاگراف روزبروز بلند ہوتا جارہا ہے، لوگ بحیثیت مجموعی پر امن طور سے رہنا بھی چاہتے ہیں اور بُنیادی مسئلہ کا سبھی فریقین کی امنگوں ، خواہشات اور احساسات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے باوقار اور آبرومندانہ حل تلاش کرنے کی زبردست خواہش رکھتے ہیں۔ لوگوں کی اس خواہش میں کسی بھی حوالے سے رخنہ انداز ہونے کا صاف اور واضح مطلب یہی ہوگا کہ کم سے کم ۲۰ سال پہلے کی پوزیشن پر واپس لوٹا جائے۔ آپشن سامنے ہے۔ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے، اس کافیصلہ دہلی کو کرنا ہوگا۔ کشمیر نے اپنا فیصلہ دیدیاہے۔ نہ صرف مین اسٹریم قیادت افضل گورو کو پھانسی دینے کے خلاف ہے بلکہ علیحدگی پسند کیمپ کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی اکثریت بھی معقول وجوہات کی بُنیاد پر ہی نہیں بلکہ انصاف کے تمام تر تقاضوں کی روشنی میں پھانسی کی خلاف ہے۔ 
اگر چہ افضل گورو براہ راست پارلیمنٹ حملے میں ملوث نہیں اور نہ ہی کشمیر میں اس کی شخصی حیثیت کسی ہیرو یا لیڈر کی سی ہے۔ وہ ایک عام شہری اور عام کشمیری کی حیثیت رکھتا ہے۔ پارلیمنٹ واقعہ سے قبل تک اس نام سے لوگ کشمیر میں آشنا نہ تھے، اس نام سے ان کا تعارف واقعہ کے بعد کرایا گیا ۔ عسکری اور سیاسی تحریک میں افضل گورو کے رول اور اصل کردار کے تعلق سے کئی سوالات اُبھرے یہاں تک کہ ایک حلقے کا یہ بھی ماننا تھا کہ گورو کچھ عرصہ تک سٹیٹ کیلئے بھی کام کرتے رہے۔ جس بُنیاد پر کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے اس کا رول کچھ عرصہ تک شک کے دائرے میں بھی رہا۔ لیکن یہ سارے شبہات وقت کے ساتھ ساتھ زائل ہوتے رہے اور لوگوں کی اصل توجہ اس ناانصافی کی طرف مبذول ہوتی رہی جو دہلی کی عدالتوں میں افضل گورو کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران روا رکھی گئی اور ابھی چند روز قبل جس ناانصافی کا واضح اور برملا اظہار اعلیٰ مذاکرات کار دلیپ پڈگاؤنکر نے بھی کیا۔ افضل کے خلا ف مقدمہ یکطرفہ چلایاگیا، اس کو اپنے مقدمہ کی انصاف اور جوڈیشری کے تمام بُنیادی تقاضوں کے مطابق پیروی کی اجازت ملی اور نہ ہی کوئی سہولیت بلکہ نچلی عدالتوں نے اس یکطرفہ مقدمہ کی سماعت کے نتیجہ میں سزا کا جو تعین کیا ملک کی سپریم کورٹ نے اسی کو برقرار رکھا۔ لہٰذا کشمیری عوام بحیثیت مجموعی اس بات پر متفق ہیں کہ افضل گورو ناانصافی کا شکار ہے اور جوڈیشری اس حوالے سے مجرم!! جوڈیشری کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ملزم کو اپنا دفاع کرنے کا موقعہ فراہم کرتی، اور اگرا نتظامیہ اور پولیس اس راہ میں رخنہ انداز ہوتی تواس کا توڑ کر کے مقدمہ کی سماعت کو جوڈیشری کے بُنیادی اصولوں کے مطابق یقینی بناتی۔ اس حوالے سے جب نگاہ ممبئی حملوں میں ملوث پاکستانی نژاد اجمل قصاب کے خلا ف مقدمہ کی سماعت سے جڑے پہلوؤں کی طرف جاتی ہے تو یہ اطمنان ہو جاتا ہے کہ انصاف کو یقینی بنایا گیا، ہر سہولیت اجمل قصاب کو دستیاب رکھی گئی اور وکلاء کی خدمات بھی وقف کر دی گئی۔ اسکے برعکس افضل گورو توواضح طور سے ناانصافی کا شکار بنا ، اگر ہندوستان کی جوڈیشری کے ایک حصے اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے انصاف کا خون کرنے میں کسی رو رعایت سے کام نہیں لیا، تو افضل گورو کی موت ا ن کیلئے کسی اہمیت یا تشویش کا حامل نہیں۔ 
تاریخ کیا کہتی ہے ؟انگریزوں کے خلا ف بغاوت ، عسکری تحریک منظم کرنے اور انگریز راج کے دوران پارلیمنٹ میں انقلابی لٹریچر پھینکنے کے الزام میں بھگت سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں کو سزائے موت سے ہم کنار کر دیا گیا۔ انگریز نے انہیں دہشت گرد قرار دیا۔ آزادی کے بعد ہندوستان کی سیاسی اور حکومتی قیادت جبکہ ہندوستان کے کروڑوں عوام کی نگاہوں میں وہ تینوں دیش بھگت تھے، عظیم سپوت تھے اورآج انہیں ہندوستان کی جنگ آزادی کے ہیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے کارناموں اور آزادی کی تحریک میں ان کے کردار پر مبنی کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ ہندوستان نے ۸۴ء میں مقبول بٹ کو کشمیر میں ہندوستان کی بالادستی کو چیلنج کرنے اور کشمیر میں تحریک آزادی کے سب سے بڑے علمبردار کے حوالے سے تختہ دار پر لٹکا دیا۔ ان کے جسدخاکی کو تہاڑ جیل میں دفن کر کے عملاً ان کی باقیات کو اپنے قید میں رکھاہے۔ باقیات نہ لوٹا کر دہلی اپنے سینے پر ایک ایسے زخم کو سہلا سہلا کر برداشت کر رہی ہے جس نے اس کو عذاب مسلسل میں مبتلا کررکھا ہے ۔ مقبول بٹ کشمیریوں کا ہیرو ہے اور اس کے رول اور کردار کو ناقابل فراموش سمجھا جارہا ہے۔ اس بات پر کشمیری عوام متفق ہیں کہ ایک بٹ کو پھانسی دے کر دہلی نے کشمیر میں ہزاروں مقبول پیدا کئے۔اب افضل گورو کی باری ہے ۔ کہا تو نہیں جاسکتا کہ اگر اس کو پھانسی دی گئی تو کشمیر میں اور کتنے افضل گورو پیدا ہوں گے البتہ ایک خلش رہے گی جو کشمیریوں کی نفسیات کو ٹھیس پہنچاتی رہیگی اور دہلی کی جانب مفاہمت یا دوسرے الفاظ میں بقائے باہم کے جو کچھ بھی جذبات ابھر چکے ہیں وہ ختم ہو جائیں گے۔ دہلی کیلئے کشمیر سے یہی پیغام ہے کہ وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ رحم کی جو اپیل کی گئی ہے اس کو قبول کر کے سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دے۔ 

Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail