Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document

سرکاری ملازم

آج کی نشست میں ہمارے ساتھ ایسے مہمان ہیں جن کی باتیں سن کر یقینا ان کے بارے میں کم از کم ہم نے اپنی رائے بدل لی ہے ۔آپ سے آج روبرو ہیں .... سرکاری ملازم ۔


دس نمبری: جی آپ بڑے خوش و خرم نظر آ رہے ہیں۔
سرکاری ملازم: بس اوپر والے کی مہر بانی ہے ۔اندر کا حال تو ہم ہی جانتے ہیں ۔
دس نمبری:آپ کے گھر میں اوپر کون رہتا ہے جو آپ پر اتنا مہر بان ہے؟
سرکاری ملازم:نہیں نہیں آپ ہماری بات کو نہیں سمجھے‘ میرے کہنا کا مطلب ہے کہ یہ سب اللہ کا کرم ہے ۔
دس نمبری:اچھا حکومت کے بعد اب اللہ میاں کو بھی اپنے جھانسے میں کیا ہے ۔خیر یہ بتائےے کہ کیا ہورہاہے آجکل ؟
سرکاری ملازم : آپ تو خود دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ‘ آپ لوگوں سے تو کچھ بھی مخفی نہیں ۔ہمارے لئے تو کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے ۔ جو ہو رہا ہے بس ہو رہا ہے ‘ اب کس کیلئے ہو رہا ہے وہ ہمیں پتہ نہیں ۔اور نہ شاےد انہیں جو یہ سب کچھ کروا رہے ہیں۔
دس نمبری:ہڑتال کے ان دنوں ‘ معاف کےجئے مہینوں کے دوران آپ ....
سرکاری ملازم :جی میں سمجھ گیا آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں!تو سن لےجئے کہ ہم پچھلے چار مہینوں سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بےٹھے ہیں ‘ کم بخت ہڑتالیں کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں دیتی ہیں ۔نہ جانے یہ عذاب کب ختم ہو جائےگا ۔اللہ میاں کی قسم ان ہڑتالوں نے تو ہمارا حال بے حال کر دیا ہے ۔
دس نمبری:حال بے حال ؟ایسا کیسے‘ حال بے حال تو تاجروں کا ہوا ‘ ڈیلی وےجروں اور ہمارا بھی ‘ آپ کا کیسے؟آپ کو تو ہر ماہ گھر بےٹھے تنخواہ مل رہی ہے۔
سرکاری ملازم:یہی تو .... یہی غلط فہمی تو سارے فساد کی جڑ ہے ۔سبھی سمجھتے ہیں کہ سرکاری ملازموں کے بغیر ہر ایک کشمیری قر بانی دے رہا ہے ‘ مالی قربانی۔ سبھی سمجھتے ہیں کہ ہڑتال سے ....ان بے ہنگم اور غیر ضروری ہڑتالوں سے صرف ملازم لوگ خوش ہیں ۔ لیکن اللہ میاں اور حریت کے ان کلینڈروں کی قسم ایسا کچھ بھی نہیںہیں ۔ ہم بھی ان ہڑتالوں سے خوش نہیںہیں ۔سب سے زیادہ ناخوش تو ہم ہی ہیں۔ہم بھی نہیں چاہتے ہیں کہ ہڑتال غیر معینہ عرصے کیلئے جاری رہے ہیں ۔ سرکاری ملازم بھی ان ہڑتالوں سے تنگ آگئے ہیں ‘ واللہ ہمارا بھی ان ہڑتالوں سے نقصان ہو رہا ہے ۔
دس نمبری:سرکاری ملازمین کا بھی نقصان ؟
سرکاری ملازم: جی ہاں ہمارا بھی نقصان ہو رہا ہے ‘ یہ دوسری بات ہے کہ ہم تحریک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں اپنا منہ کھول نہیں رہے ہیں ۔کسی سے کوئی شکایت یا گلہ نہیں کررہے ہیں ‘بالکل خاموش بےٹھے ہیں ‘ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ جتنی قربانیاں ہم دے رہے ہیں ‘ جتنا نقصان ہم اٹھا رہے ہیں کوئی اور نہیں اٹھا رہا ہے اور ستم ظرےفی یہ ہے کہ لوگ ہمیں بد نام کررہے ہیں۔ الزام دیا جا رہا ہے کہ سرکای ملازم چاہتے ہیں کہ ہڑتال جاری رہے ۔جیسے ہمارے چاہنے سے ہی ہڑتال جاری رکھی جا رہی ہے ۔جہاں گیلانی صاحب اور صلاح الدین صاحب کی نہیں چلتی ہے وہاں ہڑتال کے حوالے سے ہماری بات کون سنے گا ۔ میں اللہ میاں کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ ملازم بھی ہڑتال کے حق میں بالکل بھی نہیںہیں کہ ان ہڑتالوں سے ہمارا بھی نقصان ہو رہا ہے ۔
دس نمبری:لیکن ایسا کیسے ممکن ہے ‘ کیا سرکار آپ کو ہڑتال کے دنوں کی تنخواہ نہیں دیتی ؟
سرکاری ملازم : لو جی ایک تو ہمارا اتنا نقصان ہو رہا ہے اور کیا اب آپ چاہتے ہیں کہ سرکار ہمیں ہمارا حق یعنی تنخواہ بھی نہ دے ؟سرکار اس بارے میں صرف سوچے ‘ ساری مشینری ابھی کی ابھی ٹھپ ہو جائےگی ۔تنخواہ ہمارا حق ہے سرکار اس کو روکنے کی جرات نہیں کر سکتی ہے ۔
دس نمبری:پھر آپ کس نقصان کی بات کررہے ہیں ‘ہڑتال سے آپ کو کیا نقصان ہو رہا ہے ۔الٹا آپ کو تو دفتر بھی نہیں جانا پڑتا ہے اور گھر بےٹھے تنخواہ ملتی ہے ۔
سرکاری ملازم :یہی تو نقصان ہے ‘جناب نقصان تو یہی ہے کہ ہم دفتر نہیں جا سکتے ہیں۔ گھر پر بےٹھے رہنے سے تو صرف تنخواہ ملتی ہے‘ صرف تنخواہ اور کچھ نہیں ۔اسی بات کا تو رونا ہے ‘ہم تو دفتر جانا چاہتے ہیں لیکن کیا کریں کہ جا نہیں پا رہے ہیں ۔جو کچھ ہو تا ہے دفتروں میں جانے سے ہی ہو تا ہے ‘ گھروں میں بےٹھ کر نہیں۔
دس نمبری:مطلب؟
سرکاری ملازم:مطلب یہی کہ ہڑتال ہماری مطلب کی چےز نہیں ہے ۔ہم ہڑتال سے بالکل بھی خوش نہیں ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ ہڑتال جلد سے جلد ختم ہو جائے تاکہ دفتر نہ جانے سے جس اقتصادی ناکہ بندی کا سرکاری ملازمین کو سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جس سے ہمارے بے شمار مسائل پےدا ہو گئے ہیں ‘ جس اقتصادی ناکہ بندی سے ان چار ماہ میں ہمارا لائف اسٹائل ہی تبدیل ہو گیا ہے ‘ اس صورتحال ....تکلےف دہ او ر پریشان کن صورتحال سے ہم جلد سے جلد باہر نکل آئیں ۔
دس نمبری:یعنی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سرکاری ملازمین بھی ہڑتال کے بالکل بھی حق میں نہیںہیں ؟
سرکاری ملازمین : شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی آپ کو ہماری بات سمجھ میں تو آگئی ۔ ہم بالکل بھی اس کے حق میں نہیںہیں کیونکہ ہڑتال کسی اور کے حق میں ہو سکتی ہے .... لیکن اللہ میاں کی قسم سرکاری ملازمین کے حق میں تو یہ بالکل بھی نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ۔

 


Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail