Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document

پاکستانی وزیر اعظم کا مذاکراتی عمل کو بامعنی بنانے پر زور

لندن/۲۲جولائی 
پاکستان کے وزیر اعظم سید رضا گیلانی نے کہاہے کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بامعنی بات چیت کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک آگے بڑھ سکیں ۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو لندن میں ایک انٹرویو میں رضا گیلانی نے کہا ’’دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ۲۷ جولائی کو دلی میں مل رہے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل میں مزید جان ڈالی جا سکے ۔‘‘انہوں نے مزید کہا ‘‘ہم واقعی بات چیت کے عمل کو با معنی بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس عمل کے اچھے نتائج نکلیں۔‘‘
پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات چاہتے ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام مسائل پر بات چیت جائے تاکہ آگے بڑھا جا سکے ۔
رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان کی استحکام میں ایک رول ہے’’اور مجھے امید ہے کہ ہندوستان بھی افغانستان میں اچھا کردار ادا کریگا ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو سرحد پر لڑائی ختم کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا پڑے گا ۔رضا گیلانی نے کہا ’’ہم حل کا ایک حصہ ہے ‘ مسائل کا نہیں ۔‘‘
اس سے پہلے کل لندن میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان میں مذاکرات نہ ہونے کا فائدہ جنگجوؤں کوپہنچنے گا ۔ رضا گیلانی نے کہا ’’دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے ہیں تاکہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت ہو سکے ۔‘‘
پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ممبئی حملے دونوں ممالک کے تعلقات کو یرغمال نہیں بنا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہند پاک وزراء خارجہ ۲۷ جولائی کو دلی میں مل رہے ہیں ۔
رضا گیلانی کاکہنا تھا کہ دلی اور اسلام آباد میں مذاکرات نہ ہونے کا فائدہ جنگجوؤں کو پہنچنے گا ۔ غلام نبی فائی کی امریکہ میں گرفتاری پر رضا گیلانی کاکہنا تھا’’اس کا تعلق کشمیر سے ہے ‘ اس کی گرفتاری کا پاکستان کی واضح پالیسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ‘‘

مکہ : دْنیا کا سب سے بڑا گھڑیال رمضان سے کام شروع کر دے گا
جدہ/۲۲جولائی 
دْنیا بھر کے مسلمان اس سال رمضان المبارک سے اپنی گھڑیوں کو مکہ اسٹینڈرڈ وقت کے مطابق سیٹ کرسکیں گے۔ 
حرم شریف میں باب عبد العزیز کے سامنے ٹاور پر نصب دْنیا کا سب سے بڑا گھڑیال اپنا تجرباتی دور مکمل کر کے رمضان المبارک۱۴۳۲ھ سے کام شروع کر دے گا۔ یہ گھڑیال لندن کے مشہور بگ بین سے قطر میں چھ گنا بڑا ہے۔ مکہ مکرمہ ٹائم گرین وچ مین ٹائم کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکے گا اور بیرون مکہ سے آنے والے ۱۷ کلو میٹر دور سے مکہ ٹائم کا نظارہ کر سکینگے۔
۲۰۰۸ میں دوحہ میں ایک کانفرنس میں مسلم علماء اور اسکالرز نے مکہ مکرمہ اسٹینڈرڈ ٹائم کو استعمال کرنے کے سائنسی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھاکیونکہ کہ مکہ ٹایم صحیح گلوبل مریڈین ہے اور مکہ مکرمہ دْنیا کا بھی مرکز ہے جبکہ گرین وچ ٹائم کو مغرب نے ۱۸۸۴ میں جبری مسلط کیا تھا۔معتمرین اور زائرین نے اس مکہ گھڑی کی تنصیب پرمسرت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت خادم حرمین شریفین کا شکریہ اداکیا ہے۔

دہشت گردی کے بنیادیڈھانچنے کی موجودگی باعث تشویش:کرشنا

تھمپو/۲۱جولائی 
بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہاہے کہ میں پاکستان میں انتہا پسندوں کے کیمپوں اور بنیادی ڈھانچے کی موجودگی بھارت کیلئے باعث تشویش ہے ۔
کرشنا جو ان دنوں انڈونیشیا میں آسیان ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے گئے ہوئے ہیں نے کہا ہے کہ بھارت کی تشویش کو دور کرنے کیلئے پاکستان کو لازماً اپنی سرزمین پر قائم دہشت گردی کے ڈھانچے کا قلع قمع کرنا چاہیے ۔ انہوں نے دہشت گردی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ اس پورے خطے کے ساتھ ساتھ بھارت کی امن وسلامتی کو لاحق خطرے کا سدباب ہوسکے ۔
بھارت کے وزیر خارجہ نے واضح اشارہ دیا کہ ۲۷جولائی کو دلی میں ہونے والے وزرائے خارجہ مذاکرات کے دوران وہ دہشت گردی کا معاملہ پوری شدت کے ساتھ اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ اٹھائیں گے ۔

علیحدگی پسندوں کی کولگام واقعہ کی سخت مذمت

سرینگر/۲۲؍جولائی
حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے علاوہ جماعت اسلامی ، فریڈم پارٹی ، دختران ملت ، نیشنل فرنٹ ، سالویشن مومٹ ، مسلم خواتین مرکز ، تحریک حریت ،ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی اور عوامی نیشنل کانفرنس سمیت دیگر علیحدگی پسند جماعتوں نے کولگام میں فوج کی طرف سے پیش آئے مبینہ عصمت دری کے واقعہ کے خلاف سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اس قسم کے واقعات کی اقوام متحدہ کی ’’ وار کرائم ٹریبونل ‘‘ کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ۔ کے این ایس کے مطابق حریت(گ)چےئرمین سیّد علی گیلانی نے کولگام میں پیش آئے اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کیخلاف اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیوں پر احتجاج درج کرانے کیلئے 23جولائی سنیچر کے دن مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ شوپیاں سانحہ کی بازگشت ہے اور اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ کشمیر کے حالات میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔مسٹر گیلانی نے کہا کہ اس سانحہ نے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے قبیح چہرے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے اور اس بات کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت فراہم ہوگیا ہے کہ یہ فوج جموں کشمیر میں عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیارکے طور پر استعمال کررہی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے اس واقعے اور دیگر اس قسم کے سینکڑوں واقعات کی اقوامِ متحدہ کے ’’وار کرایم ٹریبونل ‘‘کے ذریعے سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہے اور دہلی کی حکومت ان جرائم پر پردہ پوشی کا کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر کولگام واقعے یا اس قسم کے دوسرے واقعات کی تحقیقات کے حوالے سے کسی بھی مقامی کمیشن پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور آج تک شوپیاں سانحہ سمیت اس طرح کے تمام معاملات میں حقائق پر پردہ ڈالنے کی دانستہ کوششیں کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں یہاں کی ریاستی حکومت بھی برابر کی مجرم ہے ۔اس دوران حریت (ع) کے چےئر مین میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کولگام کی ایک اور پردہ نشین خاتون اہلیہ محمد لطیف بٹ کے ساتھ مبینہ طور پر فورسز کے ہاتھوں دست درازی اور بے حرمتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ، شرمناک اور المناک ہے اور ہم اسکی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ کوئی بھی باغیرت قوم اس طرح کی شرمناک حرکتوں کو ہرگز گرداشت نہیں کرسکتی اور کولگام کا یہ جبری عصمت دری کا تازہ سانحہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے عوام کو چاہئے کہ ا س واقعہ کیخلاف بھر پور احتجاج کریں تاکہ ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔میرواعظ نے کہا کہ شوپیاں سانحہ کے دہرے قتل اور عصمت دری کے افسوسناک واقعہ میں ملوث افراد کوآج تک کیفر کردار تک نہ پہنچانے کے سبب ایسے افراد اور سازشی عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے جو آئے دن ایک منصوبے کے تحت اس طرح کی شرمناک حرکتیں کرکے ہمارے ملی اور انسانی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔حریت چےئر مین نے انسانیت اور انسانی قدروں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی عالمی اور بھارتی تنظیموں سے کہاکہ آخر وہ یہاں اس طرح کے معاملات میں خاموش کیوں ہیں؟انہیں چاہئے کہ وہ اس ضمن میں حرکت میں آکر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔میرواعظ نے کہا جموں وکشمیر کے حدود میں فوجی انخلاء کے بجائے یہاں عملاً فوجی راج ہے اور ہر معاملے میں فوج کا عمل دخل ہے جبکہ فورسز کو حاصل بے پناہ اختیارات کم کرنے اور کالے قوانین کالعدم قرار دینے کے بجائے انہیں روز بہ روز مستحکم اور مضبوط بنایا جارہا ہے جو انتہائی فکر مندی کا سبب ہے۔دریں اثنا حریت چےئر مین کی ہدایت پرایک وفد جس میں عبدالرشید اونتو،عبدالمجید وانی ، محمد یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، اورمحمد مقبول صوفی شامل ہیں نے کولگام جاکر حالات وواقعات کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے وفد کو کولگام جانے سے روکا ۔ اس دوران حریت نے پولیس کی اس کاروائی کی مذمت کی ہے ۔کے این ایس کے مطابق جماعت اسلامی نے ضلع کولگام چھیرن بل منزگام میں پیش آئے عصمت دری واقعہ کو افسوسناک قرار دیکر اس کی مذمت کی۔جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ 20 سال کے دوران ایسے کئی دلدوز سانحات پیش آئے لیکن ان میں ملوث مجرموں کے خلاف کوئی موثر اور عبرتناک قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی شرمناک اور گندی ذہنیت کے حامل اہلکاروں کو جب بھی موقعہ ملتا ہے تو وہ ایسی گھناونی کاروائیوں کو انجام دینے سے کوئی گریز نہیں کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دراصل جموں و کشمیر خاص کر وادی میں نافذ چند سیاہ قوانین ،ان مجرموں کے خلاف کسی پولیس کاروائی کو انجام دینے میں روک بنے ہوئے ہیں اور ان ہی کالے قوانین کی آڑ میں فورسز اہلکار بڑی بے باکی سے انسانیت سوز حرکات کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور جب تک یہ قوانین نافذ العمل رہے گے یہ جرائم ہوتے رہے گے۔ترجمان نے کہا کہ اگر ایک اہلکارکو بھی قرار واقعی سزاملی ہوتی تو کوئی دوسرا ایسا جُرم کرنے کی ہمت نہیں کرتا، تاہم یہاں کے اقتدار پر بیٹھے لیڈران یہاں کے عوام سے زیادہ اپنی کرسیوں کی فکر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان میں کوئی آجتک کوئی سچ بات بھی نہ کہہ سکا ۔ انہوں نے کہا کہ ان ہی واقعات کے طور پر سوپور کی ایک کنواری لڑکی قرۃ العین کو ایک من گھڑت کیس میں پھنسا کر اُسکی زندگی سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق ادھر دختران ملت کی قائمقام سربراہ رفعت فاطمہ نے کولگام میں فوجیوں کی رقیہ نامی خاتوں کے اغوا اور عصمت ریزی کی زبردست مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کی طرف سے ایسے بدترین کرتوتوں کے بار بار دہرائے جانے پر بھی کشمیر میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پچھلے64سالوں سے قابض بھارتی افواج نے ہمارے لاکھوں بھائیوں کو تہہ تیغ کیا اورزندانوں کی زینت بنا دیا لیکن یہ سب قربانیاں ہم نے اپنی عصمت اور عزت کی حفاظت کیلئے یعنی ان بد کرادر فوجیوں کے تسلط سے اپنی سر زمین کو پاک کرنے کیلئے دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف ہندوستانی ایجنسیاں جھوٹے کیسوں میں مرد وزن بچوں اور بزرگوں کو پھنساتی آرہی ہیں دوسری طرف عصمت دری میں ملوث فوجیوں کے بال بھی بیکے نہیں کئے جاتے ہیں جبکہ کنن پوش پورہ سے لیکر شوپیان کیس تک کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک ظالم اور جابر قوم ہیں جو ہم پر مسلط ہو چکی ہے اور اس جابر وظالم قوم سے کبھی بھی انصاف کی توقع نہیں کر سکتے ہیں بلکہ اس کے خلاف اپنی تحریک میں سرعت لانی چاہئے ۔دختران ملت کی سربراہ نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اسلامی طاقتوں ،اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ محکوم و مظلوم قوم کی عورتوں کی عصمت دری پر فی الفور مداخلت کر کے بھارت پر دباؤ ڈالے۔دریں اثناء فریڈم پارٹی سربراہ شبیر شاہ نے وادی میں حقوق انسانی کی سنگین پا مالیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کشمیر کے منزگام کی ایک نواحی پہاڑی بستی چھرن بل میں وردی پو شوں نے ایک جوان سا لہ خاتوں رقیہ کی اجتماعی عصمت دری کی جو قابل مذمت ہے اور اس میں ملوث مجرموں کو سخت سے سخت سزا د ی جانی چاہیے۔ کے این ایس کے مطابق نیشنل فرنٹ کے سربراہ نعیم احمد خان نے کہا کہ کولگام کے مضافاتی گاؤں منز گام میں پیش آیا واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جموں کشمیر سے مکمل فوجی انخلاء کی کتنی ضرورت ہے اور ان جیسے شرمناک واقعات یہاں موجود فوج اور فورسز کی موجودگی کہ وجہ سے ہی رونما ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور اُس کے ریاستی اعانت کاروں نے فورسز کو کالے قوانین کے سہارے اتنا طاقت ور بنا رکھا ہے کہ وہ کبھی بھی یہاں کے لوگوں کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنا اپنا حق تصور کررہے ہیں جبکہ کشمیریوں نے جاری تحریک مزاحمت کی راہ میں خوشی خوشی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر اپنی خواتین کی عصمت اور عزت کی طرف میلی آنکھ ڈالنے والے کو اُنہوں نے کبھی برداشت نہیں کیا ہے ۔نعیم احمد خان نے کہا کہ یہاں کاکوئی بھی باغیرت شہری اپنی خواتین کی عصمت اور عزت کو لٹتے نہیں دیکھ سکتا ہے اورا س طرح کی حرکات عام سے عام انسان کا بھی لہو گرم کرسکتے ہیں اور ان پر قابو پانے کی واحد صورت یہ ہے کہ کشمیر کی سرزمین سے فوری طور پر مکمل فوجی اور فورسز انخلاء کا عمل شروع کیا جائے اور اس کام کا آغاز شہری آبادیوں سے فورسز انخلاء سے کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گر بھارت اور اُس کے مقامی اعانت کار منزگام کے شرمناک واقعے کی تحقیقات میں مخلص ہیں اور وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں تو کسی غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے کو لاکر اس کی تحقیقات کرائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے اور مستقبل میں اس طرح کے شرمناک واقعات پیش آنے پر روک لگ جائے۔اس دوران تحریک حریت نے بھی کولگام واقعہ پر مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے بدترین انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا ہے ۔کے این ایس کے مطابق سالویشن مومنٹ کے چےئر مین ظفر اکبر بٹ اور ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی کے سربراہ ہاشم قریشی نے بھی کولگام واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ اس دوران مسلم خواتین مرکز کی چیر پرسن یاسمین راجہ نے فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں کولگام تحصیل سے وابستہ ایک خاتون رقیہ بیگم کو اغوا ء کرنے کے بعد دو روز تک ہوس کا شکار بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی شرمناک ہے اورایک منصوبہ بند طریقے سے فورسز جنگی ہتھیار کے طور پر کشمیری خواتین کے دامان عزت و عصمت کو پیوند خاک بنا رہے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کو موصولہ بیان کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ فورسز کے ہاتھوں کسی کشمیری مسلمان خاتون کے ساتھ دست درازی اور عصمت ریزی کا یہ پہلا شرمناک واقعہ نہیں بلکہ1990 سے اب تک فورسز نے دس سالہ بچی سے لیکر 70 سالہ بزرگ عورت تک سینکڑوں کشمیری خواتین کی عصمت کو تا ر تار کیا۔یاسمین راجہ نے کہا کہ یہ کتنے ظلم وستم اور شرم کی بات ہے کہ ایک قوم کی آزادی سلب کرنے کے بعد فورسز ایک منصوبہ بند طریقے سے جنگی ہتھیار کے طور پرکشمیری قوم کی با غیرت ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کو تار تار کررہے ہیں اور ایسے شرمناک اور ظالمانہ واقعات کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ ادھر ضلع کولگام کی پہاڑی بستی میں فورسز اہلکار وں کی جانب سے خاتون کی اجتماعی عصمت دری پر زبر دست غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ اور زونل صدر اننت ناگ بشیر احمد ملک نے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے یہ بات صاف وعیاں ہو رہی ہے کہ وزیر اعظم کا زیروٹالرنس کا دعویٰ سیراب ثابت ہوا ہے انہوں نے کہا انسانی حقوق کا یہ بدترین واقعہ اس وقت ضلع کولگام کی گوجر بستی چھرن بل میں پیش آیا جب ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور اپوزیشن لیڈر مفتی محمد سعید اس علاقے میں اپنے اپنے سیاسی دُکانوں کو چمکانے میں لگے تھے ۔انہوں نے کہا پوری ریاستی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ جنوبی کشمیر میں اس وقت متحرک تھی اور ان وی آئی پی لوگوں کی حفاظت اور قیام وطعام میں سرگردان تھے جب اس علاقے میں 27سالہ اس خاتون کی عصمت تار تار کی گئی ۔انہوں نے کہا ایسے بے شمار انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات وادی کے طول وعرض میں بغیر سی روک ٹوک کے جاری ہیں جن سے انسانی روح کانپ اُٹھتی ہیں ۔


Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail