Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document

میرواعظ کا پروگرا م:سنو اور نہ سناؤ 

 

92.7بگ ایف ایم کا نعرہ ہے سنو سناؤ۔۔۔لائف بناؤ۔اپنے میر واعظ عمر فاروق اس نعرے کو عملی جامہ پہنا کر کچھ سنانا چاہتے تھے تاکہ لوگوں کی لائف بن جاتی ۔ پر بھیا دلی کو کچھ اور ہی منظور تھا جس نے ان کے پروگرام کی لائف لائن ہی کاٹ دی ۔۔۔ ہمیشہ کیلئے ۔ دعا ہے کہ اللہ میاں ماہ رمضان کے طفیل مرحوم پروگرام کی روح کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور92.7بگ ایف ایم کے ساتھ ساتھ میر واعظ صاحب کو بھی یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ 
اب جبکہ سننا اور سنانا بند کیا گیاہے تو میر واعظ صاحب شکایت کرنے لگے ہے ہیں کہ وہ تو ایف ایم ریڈیو پر مذہبی باتیں کررہے تھے ‘ سیاسی نہیں لیکن دلی نے اس پر بھی روک لگا دی ۔ میرواعظ صاحب ہی نہیں بلکہ دوسرے علیحدگی پسند بھی دلی سے اس بات پر خفا ہیں ۔رہی سی ایم صاحب کی بات تووہ اس معاملے سے خود کو بالکل الگ رکھ رہے ہیں ۔ دعویٰ کررہے ہیں کہ پابندی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ۔
سچ پو چھئے تو ہمیں وزیر اعلیٰ کی بات پر یقین ہے‘سو فیصد یقین ہے ۔اس لئے نہیں کہ وہ سچے ہیں ‘ وہ صرف سچ کہتے ہیں ‘ جھوٹ نہیں۔وزیر اعلیٰ کتنے سچے ہیں وہ تو آپ بھی ہماری طرح پچھلے تین برسوں سے دیکھ رہے ہیں اور راہل جی کی مہر بانی سے آئندہ مزید تین برسوں تک دیکھیں گے ۔یقین ہے کہ آئندہ تین برسوں میں ہمیں اس بات پر ایمان کی حد تک یقین ہو جائیگا کہ ہمارے سی ایم صاحب سچ میں سب سے سچے ہیں ‘ جھوٹے نہیں ۔ وہ جو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں ۔اور یہ کہہ کر ہم سچ کہہ رہے ہیں ‘ ہمیں قسم ہے وزیر اعلیٰ کی انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کے سچ کو سامنے لانے والے وعدوں اور قسموں کی ۔ہمیں اس لئے بھی یقین ہے کہ سی ایم صاحب سچ کہہ رہے ہیں کیونکہ جہاں دلی ہاتھ ڈالے وہاں کوئی اور اپنی ٹانگ بیچ میں لانے کی جسارت نہ کرسکتا ۔دلی کی کھینچی ہوئی لکشمن ریکھا کو کوئی پھلانگ جائے ‘کشمیر کے سیاسی گھرانوں میں ایسا کوئی جگر والاابھی پیدا ہی نہیں ہوا ہے ۔اور یہ بات اپنے سی ایم صاحب جانتے ہیں اور اللہ میاں کی قسم مانتے بھی ہیں ۔۔۔عقلمند جو ٹھہرے ۔
دلی نے میر واعظ کے پروگرام پر پابندی عائد کرائی ‘ عمر عبداللہ کودلی نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ہو گا ۔اب دلی بھی کتنا برداشت کرپاتی کہ قوت برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔لیکن کم بخت 92.7بگ ایف ایم والے تودلی کے صبر کا امتحان لینے کی ضد پر تھے۔پہلے تو میر واعظ کے پرسنل سیکریٹری روزانہ دو گھنٹوں تک قابض رہتے اور پھر ان کے باس تین گھنٹوں تک محفل سجاتے ۔
خیر! رہی بات میر واعظ کی شکایت کی تو بھیا ان کی یہ شکایت بالکل بھی جائز نہیں ہے ۔جائز اس لئے نہیں ہے کیونکہ دلی کی نظروں میں میر واعظ کی اصل شناخت ایک سیاسی نہیں بلکہ مذہبی لیڈر کی ہے ۔ یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دلی کے نزدیک اگر مولوی عمر فاروق کا کشمیر میں کوئی وزن ہے تو وہ اس لئے ہے کہ وہ میر واعظ ہیں ‘سیاسی کارکنوں سے کہیں کہیں زیادہ ان کے مریدوں کی تعداد ہے ۔مختصراً یہ کہ دلی میر واعظ صاحب کو سیاسی نہیں مذہبی لیڈر مانتی ہے ۔اور میرواعظ صاحب جب ایف ایم پر اس حیثیت میں شرکت کررہے تھے تو مذہبی باتوں کے ساتھ ساتھ خود ان کی بھی تشہیر ہو رہی تھی ۔ یقیناًان کی مقولیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ‘ان کا حلقہ اثر مزید بڑھ جاتا‘ان کو بیٹھے بٹھائے ایک پلیٹ فارم مل گیا تھا جو دلی کو قبول نہیں تھا کہ دلی آجکل ان سے خفا ہے ۔اس لئے میر واعظ صاحب کی یہ شکایت بالکل بھی درست نہیں ہے کہ ان کا ایف ایم ریڈیو پر پروگرام خالص مذہبی نوعیت کا تھا جسے دلی نے بند کرایا ۔میر واعظ صاحب شاید یہ بھول گئے ہیں کہ یہ کشمیر ہے جہاں مذہب نے بھی سیاست کی کوکھ سے ہی جنم لیا ہے ۔
یہ تو رہی ایک بات ۔دوسری بات جو بے چاری دلی کشمیر کے علیحدگی پسندوں کو سمجھانا چاہتی ہے لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں وہ ہے دلی کا ان کے تئیں تبدیل ہوا موقف ۔دلی یقیناًبدل گئی ہے اور اس لئے بدل گئی ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اگر کوئی نہیں تو میر واعظ صاحب ضرور بدل گئے ہیں ۔ ورنہ جناب یہ تو کل ہی کی بات ہے جب میرواعظ منموہن جی سے بغلگیر ہو ئے تھے ۔پھر نہ جانے کشمیر میں ایسی کون سی ہوا چلی جس نے نگین کو بھی حیدر پورہ کے رنگ میں رنگ دیا ۔اب جب بات ایسی ہوتو بھلا دلی تو اپنے اصل رنگ میں آہی جائیگی ہے ‘ وہ تو اپنے رنگ دکھائیگی سو وہ دکھا رہی ہے ۔۔۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ اگر کوئی نہیں تو کم از کم میر واعظ صاحب ان رنگوں کو نہ صرف دیکھ رہے ہوں گے بلکہ انہیں پہنچاننے کی کوشش بھی کررہے ہوں گے ۔
دلی خود بھی رنگ بدلتی رہتی ہے لیکن اسے یہ بالکل بھی پسند نہیں کہ کوئی اور بھی رنگ بدل دے ۔رنگ بدلنے کا حق صرف دلی کو ہے کسی کو نہیں۔اس کے تمام جملہ حقوق دلی نے خود کو تفویض کئے ہیں کوئی اور ایسی گستاخی نہیں کر سکتا ہے کہ بات دلی کی ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ دلی ‘ دلی ہے ۔ اب میر واعظ صاحب نے جب رنگ بدل دیا تو پھر انہیں دلی سے کوئی شکایت نہیں کرنی چاہیے ۔اگر وہ شکایت کررہے ہیں تو ہم انہیں صرف اتنا ہی کہیں گے کہ جناب آپ نے دلی کے اصلی رنگ کو ابھی تک نہیں پہچانا ہے ۔حالانکہ اس رنگ کو پہچاننا اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے۔۔۔ بس کچھ زیادہ نہیں کرنا ہے ‘ دلی کے رنگ میں رنگ جانا ہے خود بخود اس کے اصلی رنگ کی پہچان ہو جائیگی ۔ جب میر واعظ صاحب اٹل جی اور منموہن سنگھ جی سے بغل گیر ہو ئے تو دلی کو لگا کہ یہ اس کے رنگ میں رنگ گئے ہیں ۔۔۔اللہ میاں کی قسم اُن دنوں اگر میر واعظ صاحب 92.7بگ ایف ایمتو کیاآل انڈیا ریڈیو پر بھی مذہبی نہیں بلکہ سیاسی باتیں کرتے تو کوئی مائی کا لال انہیں روکتا نہیں ‘ لیکن حضورِوالا یہ قصہ پارینہ ہے ۔۔۔ یاد ماضی ہے ۔
اب دلی کے خیال میں نگین ‘ نا دانستہ یا دانستہ طور پرحیدر پورہ کے رنگ میں رنگ گیا ہے ‘ اس لئے دلی اب اپنے اصلی رنگ میں ان کے سامنے جلوہ گر ہو رہی ہے ۔ ہمیں دلی کے رنگ میں کوئی دلچسپی ہے ‘ اور نہ نگین یا حیدر پورہ کے ساتھ کوئی سروکار ہے ۔ لیکن ایک بات جو ہم سمجھ گئے ہیں ‘ ایک بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ نگین کے اصلی رنگ کی اتنی ہی ضرورت اور اہمیت ہے جتنی حیدر پورہ کے رنگ کی ہے ۔حیدر پورہ کے رنگ میں رنگ جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ‘لیکن نہ جانے میر واعظ صاحب اس رنگ میں کیوں رنگ گئے ۔


Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail